ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
مذہب محسوس پرستی ہے نہ کہ خدا پرستی۔ لاہور کے سفر میں جناب مصطفیٰ صادق (مالک اور ایڈیٹر روزنامہ وفاق) نے ایک کتاب دی۔ اس کا نام ”نفاز اسلام، منزل بہ منزل“ ہے۔ اس میں وہ تمام انٹرویو چھپے گئے ہیں جو موصوف نے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق سے لئے تھے۔ اس میں ایک سوال کے ذیل میں مصطفیٰ صادق صاحب نے کہا: 1971ء میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے شوکت اسلام کے نام سے جلوس نکالے۔ اس میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوئے۔ شوکت اسلام کے اس جلوس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ جماعت اسلامی پاکستان انتخابات میں جیت جائے گی۔ مگر نتائج بالکل الٹے نکلے۔ میں نے کہا کہ جس زمانہ میں شوکت اسلام کا ”عظیم الشان‘ جلوس نکالا گیا، میں الجمعیۃ ویکی کا ایڈیٹر تھا۔ میں نے الجمعیۃ میں لکھا تھا کہ اس قسم کے جلوسوں کی بھیڑ ہرگز اس بات کی علامت نہیں ہے کہ جماعت اسلامی الیکشن میں جیت جائے گی۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی شوکت اسلام کے جلوس کی بھیڑ کو دیکھ کر یہ بیان دے رہے تھے کہ جماعت اسلامی 75 فیصد سیٹوں پر قبضہ کرلے گی۔ جبکہ میں نے الجمعیۃ میں لکھا تھا کہ جماعت اسلامی کو چند سیٹوں سے زیادہ نہیں ملیں گی۔ نتائج نے بتایا کہ میرا اندازہ صحیح تھا اور مولانا مودودی کا اندازہ غلط۔ 23 ستمبر 1991ء کرامت شیخ صاحب لاہور کے ایک پوش علاقہ نیو گارڈن ٹاؤن میں رہتے ہیں۔ یہاں ان کا بہت بڑا مکان ہے۔ ان کے مکان کے ایک طرف ایک اور سلمان کا مکان ہے۔ دوسری طرف کا پلاٹ خالی ہے۔ مکان والے نے بڑھا کر اپنی دیوار بنا لی ہے۔ خالی زمین پر ایک اور دادا قسم کا سلمان ناجائز طور پر اپنا خیمہ ڈالے ہوئے ہے۔ وہاں وہ لوگوں کو جمع کر کے گندگی اور شور و غل کرتا رہتا ہے۔ مگر کرامت شیخ صاحب دونوں سے اعراض کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ ان میں سے کسی سے نہیں الجھتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader