Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے پوچھا کہ آپ ان کے بارے میں خاموش کیوں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم ان سے الجھیں تو وہ ہمارے لئے اور بھی زیادہ بڑا مسئلہ پیدا کر دیں گے۔ اس لئے میں نے ان کے معاملہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ میں نے کہا کہ ٹھیک یہی بات میں ہندوستان میں مسلمانوں سے کہتا ہوں تو وہ الزام دیتے ہیں کہ تم بزدلی سکھا رہے ہو۔ ۲۴ ستمبر ۱۹۹۱ الندوة العالمية للشباب الاسلامی (ریاض) کی طرف سے ایک مجلہ شہر یہ اسلامیہ شائع ہوتا ہے۔ اس کا نام المستقبل ہے۔ کل کی ڈاک سے اس کا شمارہ محرم ۱۴۱۲ھ ملا۔ اس کے صفحہ اول پر مسلم اقلیتوں پر ان مظالم کا ذکر ہے جو ان کے ملکوں میں ان کے اوپر ڈھائے جا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک ، اس کے بیان کے مطابق یہ ہے : عورتوں اور بوڑھوں اور بچوں کا قتل صرف اس گناہ کی بنا پر کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے (قتل النساء و الشيوخ والاطفال بغير ذنب الا ان يقولوا ربنا الله) مسلم اقلیتوں کی تعداد اس وقت ساری دنیا میں تقریباً ۴۰ کروڑ ہے۔ اتنی بڑی تعداد اگر صرف اس بنا پر بدترین ظلم کا شکار بنائی جا رہی ہو کہ وہ اللہ کو اپنا رب کہتی ہے تو یہ اللہ کی غیرت کے خلاف ہوگا۔ یہ ناممکن ہے کہ اتنی بڑی تعداد صرف اللہ کو اپنا رب کہنے پر ستائی جائے اور اللہ ان کی مدد نہ کرے۔ لوگ اپنی بات کہتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس سے اللہ کی بات غلط ثابت ہو رہی ہے۔ ۲۵ ستمبر ۱۹۹۱ جمال عبدالناصر نے ۱۹۵۲ میں فوجی انقلاب برپا کیا اور شاہ فاروق کو بے دخل کر کے مصر کے اقتدار پر قابض ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے مصری دانشوروں کی میٹنگ میں اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تعلیمات کا مطالعہ کر کے اس میں انسانیت اور اشتراکی پہلو کی تلاش کی جائے اور اس کے مطابق کتابیں لکھی جائیں۔ اس کے بعد مصری اہل قلم متحرک ہو گئے۔ انھوں نے اس اندازہ پر کتابیں لکھیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page