Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد رسول الحرية ، وغیرہ۔ سیرت رسول پر موجودہ زمانہ میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں وہ زیادہ تر دو قسم کی ہیں۔ یا تو عقیدت اور ثواب کے لئے یا اپنے طے شدہ نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں لکھی جانے والی سیرت کی کتابیں وقت کی ضرورت کو پورا نہ کر سکیں۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۹۱ اردو کا ایک ماہنامہ ”الفلاح“ کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ اگست ۱۹۹۱ کے ادار یہ کی ابتدائی سطریں یہ ہیں: ”فضا دھواں دھواں ہے۔ تاریکی پھیل رہی ہے۔ تیرگی کی رات امڈ رہی ہے۔ اور تاریکیوں کے نقیب ہر آن ظلمتوں کے چراغ جلا کر ظلمت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔“ ایک اور ماہنامہ ”الرشاد“ کے شمارہ ستمبر ۱۹۹۱ کے ادار یہ کی پہلی سطریہ ہے: اس وقت پوری دنیا میں مسلمان سیاسی طور پر جتنے بے وزن ہو گئے ہیں اس سے پہلے اتنے بے وزن کبھی نہ تھے۔ آجکل مسلمانوں کے رسائل و جرائد کا یہی حال ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے جرائد آخر کیوں جاری کئے جاتے ہیں، جو صبح وشام اس قسم کے اعلانات کرتے ہیں۔ یہ جرائد اگر اپنا نام الخسران اور الضلال رکھ لیں تو کم از کم انھیں اسم باطمی ہونے کا کریڈٹ ملے۔ موجودہ حالت میں انھیں کوئی کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۱ بھوپال کے ایک صاحب سے اس موضوع پر بات ہوئی کہ دین اسلام کے نام پر کثرت سے تحریکیں چل رہی ہیں مگر لوگوں کے اندر خوف خدا اور فکر آخرت پیدا نہیں ہوتا جو دین اسلام کا اصل خلاصہ ہے۔ میں نے کہا کہ تحریک نام ہے کسی چیز کی اہمیت بتا کر لوگوں کو ابھارنے کا۔ اس وقت مسلمانوں میں جو دینی و اسلامی تحریکیں چل رہی ہیں وہ خوف خدا والے دین کو ابھارتی ہی نہیں۔ پھر لوگوں میں خوف خدا کیوں پیدا ہو سکتا ہے۔ کوئی مسائل کی اہمیت بتا کر لوگوں کو ابھار رہا ہے۔ کوئی اکابر کی عظمت بیان کر رہا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page