ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑی جنگیں دیکھنا میرے لئے مقدر تھا۔ دوسری عالمی جنگ، اور پھر موجودہ جنگ جو گویا تیسری عالمی جنگ ہے۔ دوسری عالمی جنگ باقاعدہ طور پر یکم ستمبر ۱۹۳۹ء کو شروع ہوئی، جب کہ ہٹلر کی قیادت میں جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔ چند دن کے بعد انگریزی اخبار پائینیر (Pioneer) نے اپنے صفحہ پر جو سرخی قائم کی وہ اب تک مجھے یاد ہے۔ اس کے الفاظ غالب یہ تھے : Poland in Germany's hand یہ تباہ کن جنگ چند سال تک جاری رہی۔ آخر کار جو ہوا وہ یہ کہ ہٹلر نے برلن کے کھنڈر پر اپنی محبوب عورت کے ساتھ خود کشی کرلی : Isolated and reduced to despair, Hitler married his mistress, Eva Braun, مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عراق کے ڈکٹیٹر کا انجام اس سے بھی زیادہ برا ہونے والا ہے جو جرمنی کے ڈکٹیٹر کا ہوا تھا۔ ۱۸ جنوری ۱۹۹۱ ۱۸ جنوری کی صبح کو جب امریکہ کے تقریباً ڈیڑھ ہزار بمبار ہوائی جہازوں نے عراق پر حملہ کیا تو وہ ۱۸ ہزار ٹن بم (explosives) بغداد اور دوسرے فوجی اہمیت کے مقامات پر بلا مزاحمت گرانے میں کامیاب ہو گئے ۔ پہلے ہی دن انھوں نے عراقی ایراسپیس پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس حیران کن کامیابی کا راز یہ بتایا جاتا ہے کہ امریکہ نے جدید ترین ٹکنالوجی استعمال کرتے ہوئے عراق کے راڈار جام کر دئے تھے : because its radar warning system was jammed by the attackers. امریکی بمباروں نے سب سے پہلے عراق کے کمیونی کیشن سسٹم کو نشانہ بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میدان جنگ میں تعینات فوجیوں کا رابطہ ان کے مرکز سے کٹ گیا۔ ایک فوجی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader