ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائمز آف انڈیا ( ۱۸ جنوری) کے الفاظ میں، عراقی فوجی اچھی جنگ لڑ سکتے تھے اگران کی تربیت اس ڈھنگ پر ہوئی ہوتی کہ وہ اپنے ہدایتی مرکز سے کٹنے کے بعد بھی لڑسکیں: صدام حسین نے عراق میں سخت ترین ڈکٹیٹر شپ قائم کر رکھی تھی۔ وہاں کے لوگ ۳۰ سال سے عادی تھے کہ تمام احکام اوپر سے وصول کریں۔ اس قسم کا جبلت پسندانہ نظام ایک شخص کے ذاتی اقتدار کو مستحکم کرنے کے لئے بہت مفید ہے۔ مگر ہنگامی حالات میں مستحکم کارر وائی کے لئے وہ غیر مفید بن جاتا ہے۔ کیوں کہ معمول کے حالات میں آدمی اوپر کے حکم کا انتظار کرسکتا ہے مگر ہنگامی حالات میں خود اس آدمی کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے جو موقع پر موجود ہے۔ ۱۹ جنوری ۱۹۹۱ آج ٹائمز آف انڈیا (۱۹ جنوری) میں صفحہ ۹ پر خلیج کی جنگ کے بارہ میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے ــــــــ آخر تم کس کے خدا ہو : اے پی کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس جنگ میں ایک طرف سعودی عرب کے شاہ فہد ہیں جن کی طرف سے امریکی لڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف عراق کے صدام حسین ہیں جو خود اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دونوں طرف سے اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ خلیج کی اس جنگ کے دونوں فریق مسلم ہیں اور دونوں فریق بظاہر یہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا ان کے ساتھ ہے: اس رپورٹ کو پڑھتے ہوئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قول یاد آیا جو حدیث کی کتابوں میں چودہ سو سال سے نقل کیا جارہا ہے۔ بخاری اور مسلم دونوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دو بڑے جتھے آپس میں جنگ کریں۔ ان کے درمیان عظیم جنگ ہوگی۔ دونوں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader