ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
کام یہ ہے کہ وہ دنیا میں اسلامی حکومت قائم کریں۔ وہ اسلامی قانون پر مبنی نظام ظہور میں لائیں۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس قسم کا نظام اگر بالفرض ظہور میں آ جائے تب بھی وہ میرے نزدیک ایک بہت چھوٹا واقعہ ہوگا۔ سب سے بڑا واقعہ جو ایک مومن کے ذریعہ اس دنیا میں ظہور میں آتا ہے وہ نفسیاتی واقعہ ہے نہ کہ کوئی سیاسی واقعہ۔ ایک مومن نے اپنی آنکھ کھولی۔ اس نے کائنات میں خدا کی تجلی کو دیکھا۔ اس کے ذہن نے اس مشاہدہ کو ایک ربانی دریافت میں بدلا۔ اور پھر اس کی روح میں معرفتِ خدا وندی کا سمندر موجزن ہو گیا۔ اس کی آنکھیں شدتِ احساس سے بہہ پڑیں۔ اس کی زبان پر حمدِ الہی کے کلمات جاری ہو گئے ۔ اس قسم کے واقعہ کا ظہور میں آنا بلا شبہ نظام قائم کرنے کے واقعہ سے بے حساب گنا زیادہ عظیم ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس سب سے بڑی حقیقت کو جانتے ہوں۔ چھوٹی باتوں کو جاننے والے بے شمار ہیں مگر بڑی بات کو جاننے والا کوئی نہیں۔ ۳ اکتوبر ۱۹۹۱ گول مارکیٹ نئی دہلی، میں ایک اجتماع تھا۔ اس میں آر کے پورم کے بھی کچھ لوگ آئے ہوئے تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ خوش تدبیری سے بات بنتی ہے۔ اور بد تدبیری سے بات بگڑ جاتی ہے۔ اس کی تائید کرتے ہوئے آر کے پورم کے ایک صاحب نے بتایا کہ آر کے پورم میں ایک پرانی ٹوٹی ہوئی مسجد تھی۔ اس کو اب ہم نے نئی تعمیر کر کے شاندار مسجد کی صورت میں بنا لیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مسجد کے احاطہ میں ایک بڑا پیپل کا درخت تھا۔ ہند و اپنے عقیدہ کے مطابق اس کی پوجا کرتے تھے۔ اس کو ختم کرنا ایک بہت نازک مسئلہ تھا۔ غور و فکر کے بعد ہم نے یہ کیا کہ خاموشی سے رات کے وقت اس کی جڑوں میں تیزاب ڈال دیا۔ وہ درخت سوکھنے لگا۔ یہاں تک کہ سوکھ کر ختم ہو گیا۔ اس عمل کی تکمیل میں تقریباً تین سال لگ گئے۔ مگر مسئلہ اس طرح ختم ہو گیا جیسے کہ وہ تھا ہی نہیں۔ دوسری طرف اسی دہلی میں لال کنواں میں ایک پیپل ہے۔ وہ مدرسہ عبدالرب کی زمین پر آگیا ہے۔ مسلمانوں نے اس کے خلاف ہنگامہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں فساد ہوا۔ مسلمان مارے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader