Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

گئے اور پیپل بدستور اپنی جگہ کھڑا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ وہاں پولیس کی مستقل چوکی قائم کر دی گئی ہے جو رات دن اس کی حفاظت کرتی ہے۔ پیپل سے متصل ایک چھوٹا سا مندر بھی تعمیر ہوگیا ہے۔ ۴ اکتوبر ۱۹۹۱ اسپین میں مسلمانوں کی حکومت آٹھ سو سال تک قائم رہی۔ القیروان کے اغالب نے نویں صدی عیسوی میں سسلی (صقلیہ) پر قبضہ کیا جو ۱۰۹۱ ء تک باقی رہا۔ مسلمانوں نے ان علاقوں کو غیر معمولی ترقی دی۔ سابق حکمران عوام کو ظالمانہ ٹیکسوں کے بوجھ کے نیچے دبائے ہوئے تھے۔ مسلمانوں نے اس بوجھ سے انھیں نجات دی۔ انھوں نے ان ملکوں کو زراعت اور باغبانی کے اعتبار سے ایک نئے دور میں پہنچا دیا۔ مسلمانوں نے یہاں ایسی صنعتیں قائم کیں جن کا نام بھی اہل یورپ نہیں جانتے تھے۔ مگر یہی ملک بعد کو مسلمانوں کے لئے زندان بن گئے۔ مسلمانوں پر بد ترین قسم کا ظلم کیا گیا۔ انھیں چن چن کر قتل کیا گیا۔ یہاں تک کہ اسپین اور سسلی مسلمانوں سے بالکل خالی ہوگیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے جب ان ملکوں کو ترقی دی تھی تو ان ملکوں کے لوگ مسلمانوں کے اتنے زیادہ مخالف کیوں ہوگئے۔ اس کی وجہ قومی اور مذہبی نفرت کا جنون تھا۔ قومی اور مذہبی نفرت کا جنون اگر پیدا ہو جائے تو اس کے بعد انسان کو کوئی اور چیز دکھائی نہیں دیتی۔ یہی بات ہندوستان میں انگریزوں کے ساتھ پیش آئی۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ انگریزوں نے ہندوستان کو غیر معمولی ترقی دی۔ مگر جب نیشنلزم کا ذہن پھیلا تو انگریزوں کے خلاف ہندوستانیوں میں اتنی نفرت پھیلی کہ وہ سب کچھ بھول گئے اور انگریزوں کو ملک سے نکالنے کے سوا کسی اور بات پر راضی نہ ہوسکے۔ لاہور کے زمانہ قیام میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے کچھ طلبہ اور ڈاکٹر میرے پاس آئے، انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنی مسجد میں آپ کے خطاب کا پروگرام رکھا ہے، میں وہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page