ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
جزئی طور پر میں نے کہا کہ اسلام اصلا مبنی بر فرد دین ہے نہ کہ مبنی بر نظام دین۔ تقریر کے بعد ایک نوجوان نے سوال کی اجازت مانگی۔ اس کے بعد وہ کھڑے ہو کر پرجوش بلکہ اشتعال انگیز تقریر کرنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے بالکل بیکار باتیں کیں۔ اسلام، جہاد اور انقلاب کا دین ہے۔ آپ اس کو محض نماز روزہ کا دین بنا دینا چاہتے ہیں۔ وغیرہ۔ جب نوجوان اپنی اشتعال انگیز تقریر مکمل کر چکا تو میں نے کہا کہ میں نے جو کچھ بیان کیا اگر وہ غلط ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے مجھے معاف فرمائے اور آپ حضرات کے سینہ سے اسے محو کر دے۔ اور اگلا میں نے صحیح کہا ہے تو مجھ کو اس پر جمادے اور آپ حضرات کا سینہ اس کو سمجھنے کے لئے کھول دے۔ اس کے سوا میں نے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۱ء ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موت کو زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو منہدم کر دینے والی ہے۔ (اکثروا ذکر ھادم اللذات الموت، مشکاۃ المصابیح: ۱/ ۵۰۲) لذت در اصل انا کی تسکین کا نام ہے۔ اس تسکین کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً اپنے گرد و پیش مادی ساز و سامان جمع کر کے خوش ہونا، بڑائی کا درجہ پا کر خوش ہونا۔ کسی سے شکایت ہو جائے تو اس کو ذلیل اور برباد کر کے خوش ہونا۔ وغیرہ۔ جس آدمی کو حقیقی معنوں میں موت کا احساس ہو جائے اس کے اندر انا کا بت ٹوٹ جاتا ہے۔ ہر چیز اس کی نظر میں ہیچ بن جاتی ہے۔ اس کے لئے سارا مسئلہ اپنا مسئلہ بن جاتا ہے۔ دنیا کی باتوں سے اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔ اس کی ساری توجہ آخرت کی طرف لگ جاتی ہے۔ موت کا تصور اس کے لئے پورے معنوں میں لذتوں کو ہدم کرنے والا بن جاتا ہے۔ لطیفہ بیگم (اوکھلا، دہلی) ایک درد مند مسلم خاتون ہیں۔ وہ اوکھلا کے علاقہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader