Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

بچوں کا ایک اسکول چلا رہی ہیں۔ فی الحال وہاں آٹھویں درجہ تک کی تعلیم کا انتظام ہے ۔ ان کے اسکول میں تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ آئے تاکہ بچوں کو دین کی باتیں بتائیں۔ انہوں نے بچوں کو جمع کرنا چاہا مگر بچے ادھر ادھر بھاگنے اور چھپنے لگے۔ خاتون نے سبب پوچھا تو کسی بچہ نے کہا کہ اللہ میاں کی پولیس آئی ہے۔ خاتون نے کہا کہ آج اللہ میاں کی پولیس انسان کی صورت میں آئی ہے تو تم بھاگ رہے ہو۔ ایک روز اللہ میاں کی پولیس فرشتہ کی صورت میں آئے گی، اس وقت تم کیا کرو گے۔ کیوں کہ وہ وقت ایسا ہوگا کہ تم بھاگنا چاہو گے تو تمہارے لئے بھاگنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔ ۸ اکتوبر ۱۹۹۱ فلسطینی مہاجرین مغربی جرمنی سے اپنا ایک ماہوار پرچہ عربی میں نکالتے ہیں۔ اس کا شمارہ جولائی ۱۹۹۱ مجھے تاخیر سے اب ملا ہے۔ اس کے صفحہ ۸ پر ایک مضمون ہے۔ اس کا عنوان ہے : مگر فلسطینیوں کے لئے کوئی رونے والا نہیں (ولكن الفلسطيني لا بو اکی لہ) یہ بات واقعہ کے خلاف ہے۔ تمام دنیا کے مسلمان تقریباً بلا استثناء فلسطینیوں کے لئے گریہ کناں ہیں۔ مجلسیں، اجتماعات، اخبار و رسائل سب فلسطین کے تذکروں سے معمور ہیں۔ فلسطین کے محاذ پر جان و مال کی قربانی اتنی زیادہ دی گئی ہے جو صلیبی جنگوں کی مجموعی قربانی سے بھی زیادہ ہے۔ وغیرہ جہاں تک عمل کا تعلق ہے، وہ فلسطین کے محاذ پر مسلسل جاری ہے۔ البتہ اس کا مطلوبہ نتیجہ نہیں نکل رہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ فریاد بے معنی ہے کہ فلسطین کے لئے کوئی رونے والا نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ فلسطین کے بارہ میں جو طریق عمل اختیار کیا گیا اس پر نظر ثانی کی جائے۔ کیوں کہ جو چیز مفقود ہے وہ عمل نہیں ہے بلکہ نتیجہ عمل ہے۔ ۹ اکتوبر ۱۹۹۱ ۸ اکتوبر کو میں روم میں تھا۔ ڈاکٹر لیونارڈ کی مدد سے میں نے ویٹیکن اور روم کا زیر تعمیر اسلامک سنٹر دیکھا۔ ڈاکٹر لیونارڈ نے نہایت دلچسپی اور مکمل تعاون کے ساتھ دونوں مقامات دکھائے۔ اس کے برعکس جب میں اسلامک سنٹر پہنچا تو وہاں کے لوگوں میں کوئی جوش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page