Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

نظر نہیں آیا۔ حتی کہ میں نے اسلامک سنٹر کا تعارف نامہ مانگا تو ان کے پاس مجھے دینے کے لئے کوئی تعارف نامہ بھی موجود نہ تھا۔ اس فرق کی وجہ غالباً دعوتی ذہن ہے۔ مسیحی حضرات میں دعوتی ذہن ہے، اس لئے وہ دوسرے انسان کی رعایت کرتے ہیں۔ مسلمانوں میں دعوتی ذہن نہیں۔ اس لئے ان کے اندر دوسرے انسانوں کے لئے کوئی جوش نہیں پایا جاتا۔ ۱۰ اکتوبر ۱۹۹۱ء چند دن مالٹا میں گزرے۔ مالٹا میں لیبیا کی مدد سے ایک بہت بڑا اسلامک سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ تعمیری اعتبار سے وہ کافی شاندار ہے۔ مگر وہاں کوئی دعوتی یا تعمیری کام نہیں۔ میں وہاں پہنچا تو ایک سنسان سی عمارت نظر آئی۔ مرکز سے تعلق رکھنے والے چند ذمہ داروں سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے شکایت کی کہ مالٹا کی حکومت انھیں پسند نہیں کرتی اور ان کو کوئی تعاون نہیں دیتی۔ میرا قیاس ہے کہ اپنی عادت کے مطابق، یہ لوگ وہاں کی سیاست میں غیر ضروری دخل دیتے ہیں۔ اس لئے مالٹا والوں میں غیر مطلوب ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوتی کام کے لئے سیاست سے علیحدگی انتہائی ضروری ہے۔ دونوں کام ساتھ ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ ۱۱ اکتوبر ۱۹۹۱ء آج میں قاہرہ میں تھا۔ قاہرہ میں مجھے ہر طرف پسماندگی کی چھاپ نظر آئی۔ مصر کے پاس نہایت قیمتی وسائل تھے۔ مگر نام نہاد ثورہ کے بعد جمال عبدالناصر اور ان کے انقلابی ساتھیوں نے عالمی قیادت حاصل کرنے کے شوق میں اس کے تمام وسائل کو برباد کر ڈالا۔ تقریباً یہی حال انڈیا کا بھی ہے۔ ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۱ء بخاری (کتاب الاطعمہ) کی ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے ابن حجر العسقلانی لکھتے ہیں: قال النووى اجمع العلماء على استحباب التسمية على الطعام في اوله وفى نقل الاجماع على الاستحباب نظر (فتح الباری ۲۳۲/۹)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page