ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس پر علماء کا اجماع ہے: یہ جمہور کا قول ہے: جیسے الفاظ اتنے حتمی نہیں ہوتے جیسا کہ عام لوگ اس کو سمجھ لیتے ہیں۔ کوئی چیز جب اپنی آخری حد پر پہنچ جائے تو اس کے بعد وہ پیچھے کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ دنیا کا قانون ہے۔ ایک شخص غصہ ہو کر آپ کو گالی دینے لگے تو آپ چپ ہو جائیے ۔ آپ کا چپ ہونا اس کے غصہ کو حد تک پہنچنے میں مددگار ہو جائے گا۔ اگر آپ چپ کی حکمت اختیار کریں تو آپ دیکھیں گے کہ آخر کار اس کا غصہ شرمندگی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ وہ اپنی حد کو پہنچ کر پیچھے کی طرف لوٹ رہا ہے۔ ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۱ صحیح بخاری (کتاب الاطعمہ) میں عمر بن ابی سلمہ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں غلام تھا ، اس وقت میں ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے پر بیٹھا۔ کھانا ایک بڑے پیالہ میں رکھا ہوا تھا۔ میں ہر طرف سے لے لے کر کھانے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لڑکے ، بسم اللہ کہو اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور جو قریب ہو اس کو کھاؤ ۔ اس کے بعد یہی میرا کھانے کا طریقہ بن گیا (فما زالت تلك طعمتى بعد) فتح الباری ۹ / ۲۴۱ مذکورہ نوجوان کو کوئی شخص آغاز میں دیکھتا تو کہتا کہ یہ بڑا ان گڑھ لڑکا ہے ، اور اس کی اصلاح ہونے والی نہیں۔ مگر بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ اس کے اندر نصیحت پذیری کا مادہ تھا۔ چنانچہ ابتدائی دور کا غیر مہذب نوجوان ہمیشہ کے لئے ایک مہذب نوجوان بن گیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کے بارہ میں کبھی یا دوستانہ رائے قائم نہیں کرنا چاہئے ۔ قاہرہ میں عرب نوجوانوں سے ملاقات کے ایک پروگرام میں میں نے کہا کہ ماضی قریب میں مسلمانوں کے درمیان احیاء نو کی جو تحریکیں اٹھیں یا آج جو تحریکیں ان کے درمیان چل رہی ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader