ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ سب کسی نہ کسی اعتبار سے قومی جوش کو ابھار کر مسلمانوں کو اسلام کے راستہ پر لگانا چاہتی ہیں ۔ مگر اس سے کوئی حقیقی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں ۔ اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے دوبارہ اسلام کا انکشاف بنایا جائے ۔ وہ از سر نو اسلام کو دریافت کریں ۔ اس قسم کا ایمان پیدا کرنے کے بعد ہی ان کے درمیان کوئی حقیقی کام وجود میں آ سکتا ہے ۔ ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۱ سوال یہ نہیں ہے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ آپ کس کے لئے کھڑے ہیں ۔ مسجد میں کھڑا ہونا بھی غلط ہو سکتا ہے اور کوڑے خانے پر کھڑا ہونا بھی صحیح ہو سکتا ہے۔ اسی لئے حدیث میں کہا گیا ہے کہ الاعمال بالنیات ۔ ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۱ میں قاہرہ ایئر پورٹ پہ اترا تو وہاں میرے ایک واقف کار مل گئے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے آپ کو میرے یہاں چلنا ہو گا ۔ ہماری گاڑی ایک دس منزلہ عمارت کے سامنے رکی جس کی آخری منزل پر مذکورہ عرب عالم کا مکان تھا ۔ اس عمارت کے نیچے گراؤنڈ فلور پر ایک مصری کی پھلوں کی دکان تھی ۔ جیسے ہی ہم گاڑی سے باہر آئے وہ مصری کیلا لیکر آگیا اور پھیل پھیل کر ہم کو دینے لگا ۔ ہم لوگ 4 آدمی تھے ، ہر ایک کو اس نے اسی طرح ایک ایک کیلا دیا ۔ دہلی واپس آنے کے بعد میں نے اس واقعہ کا ذکر ایک ہندوستانی سے کیا۔ وہ قاہرہ میں کئی سال تک رہ چکے ہیں ۔ میں نے کہا کہ یہ عربوں کے حسن اخلاق کا پہلا تجربہ تھا جو مجھ کو قاہرہ پہنچ کر ہوا ۔ انھوں نے کہا کہ میں مصریوں کو جانتا ہوں ۔ یہ حسن اخلاق نہیں، حسن فروخت تھی۔ آپ کے میزبان سے انھوں نے اس کا پیسہ وصول کر لیا ہوگا۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں تعبیری اختلاف کی کتنی زیادہ گنجائش ہے۔ ایک ہی واقعہ جو مجھ کو اخلاق کا معاملہ نظر آتا ہے وہ دوسرے کی نظر میں تجارت کا واقعہ بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام نے بتایا کہ بیروت کے ایک اخبار کے ایڈیٹر سلیم اللوذی نے اپنے اخبار میں مضمون لکھا جس کا عنوان تھا: لماذا ایکذب النظام (حکومت جھوٹ کیوں بولتی ہے اس سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader