Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

حافظ الاسد کے آدمیوں نے گھات لگا کر اس کو پکڑا اور جنگل میں لے جا کر اس کے ایک ایک عضو کو کاٹ کر سخت تعذیب کے ساتھ اس کو مار ڈالا۔ یہ ایک بد نام شخص کا قصہ ہے۔ مگر خوش نام اکابر بھی میرے نزدیک اس سے مختلف نہیں۔ اس کی زندہ مثال میں خود ہوں۔ میں نے جن زندہ اکابر پر تنقید کی وہ اور ان کا پورا حلقہ میرے خلاف جھوٹے الزامات کا طوفان اٹھائے ہوئے ہے۔ میری عزت و آبرو کو انہوں نے حلال کر رکھا ہے۔ مجھ کو مباح الدم قرار دینے کی طاقت ان کے پاس نہیں۔ تاہم انہوں نے مجھ کو مباح العرض یقیناً قرار دے دیا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ جرم کسی بھی اعتبار سے مذکورہ جرم سے کم ہے۔ 19 اکتوبر 1991 نظام الدین احمد صاحب، بمبئی (فون نمبر 6127648)، ایک ریٹائر ڈ افسر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے کئی مہینے ایسا کیا کہ بمبئی کی مختلف مسجدوں میں جمعہ کی نماز پڑھی تا کہ ہر مسجد کا حال معلوم کروں۔ میں نے پایا کہ مسجدیں تعمیر کے اعتبار سے خوب شاندار ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے غیر شاندار۔ ان کے الفاظ میں مسجد بڑی اور امام چھوٹا۔ یہ حال صرف مسجد کا نہیں بلکہ موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام مسلم اداروں کا ہے۔ ہر جگہ درو دیوار میں ترقی ہو رہی ہے۔ مگر وہاں جو انسان ہیں وہ اپنے فکر اور اپنے کردار سے پست نظر آتے ہیں۔ 20 اکتوبر 1991 نظام الدین صاحب بمبئی ادھیڑ عمر کے آدمی ہیں۔ انہوں نے تقسیم سے پہلے کا زمانہ دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم سے پہلے مسلمانوں کے ذہن پر جن مسائل کا غلبہ تھا، ان میں سے ایک لاہور کی مسجد شہید گنج کا مسئلہ تھا جس پر سکھوں نے قبضہ کر لیا تھا اور اس کو گرد و دوارہ کہنے لگے تھے۔ اس زمانہ میں مسٹر جناح نے کہا کہ مجھ کو پاکستان دو اور میں تم کو مسجد شہید گنج دے دوں گا: Give me Pakistan and I will give you Masjid Shaheedganj. ستمبر 1991 میں میں نے لاہور کا سفر کیا۔ وہاں میں نے مسجد شہید گنج دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ آج بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page