Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ مسجد نہیں ہے۔ آج بھی وہاں گوردوارہ کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ الفاظ میں اور حقیقت میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ یہودیوں کے مذہبی الفاظ میں ایک لفظ مشنا ہے۔ یہ عبرانی زبان سے آیا ہے۔ یہود کے یہاں یہ لفظ قدیم اسرائیلی روایت کے مجموعہ کے لئے بولا جاتا ہے جس میں ہر قسم کی صحیح اور غلط چیزیں بھری ہوئی ہیں۔ چونکہ مشناہ اور سنت میں صوتی مناسبت ہے اس لئے کچھ مستشرقین نے یہ کہہ دیا کہ مسلمانوں نے مشناہ کی تعریب کر کے سنہ کا لفظ بنا لیا ہے۔ مگر اس قسم کا نظریہ قائم کرنے کے لئے صرف صوتی مناسبت کافی نہیں ہے۔ اس کے فیصلہ کی اصل بنیاد لغت ہے۔ لغات اور قدیم کلام کی تحقیق سے دیکھا جائے گا کہ سنہ کا لفظ أصلاً عربی لفظ ہے یا وہ یہودی روایات سے آیا ہے۔ اگر صوتی مناسبت کو فیصلہ کی بنیاد بنایا جائے تو ایک شخص کو ہم یہ کہنے سے نہیں روک سکتے کہ شیکسپیئر اصل میں ایک مسلمان تھا اور اس کا نام شیخ پیرو تھا۔ شیخ پیرو کو انگریزی میں شیکسپیئر بنایا گیا۔ ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۱ مسلم سلطنت کے زمانہ میں مسلمانوں نے سکھوں سے جنگ کی۔ سکھ سردار مارے گئے۔ پھر ۱۹۴۷ کے زمانہ میں پاکستانی علاقہ سے سکھوں کو مار کر نکالا گیا۔ مگر آج سکھوں اور مسلمانوں میں کوئی عداوت نہیں۔ دونوں کے درمیان آج نارمل تعلقات ہیں۔ ہندوؤں کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ مسلم سلطنت کے زمانہ میں ہندوؤں سے بھی لڑائیاں ہوئیں۔ ۱۹۴۷ کے زمانہ میں پاکستانی علاقہ میں ہندوؤں کے ساتھ ظلم ہوا۔ مگر یہاں اس کا اثر آج تک باقی ہے۔ آج بھی ہندو مسلم تعلقات میں کشیدگی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ کے بعد مسلمانوں نے سکھوں سے کوئی رقابت (rivalry) قائم نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دھیرے دھیرے ماضی کی یادیں ذہنوں سے نکل گئیں۔ دوسری طرف ہندوؤں سے مسلمانوں نے طرح طرح کی روت بتیں قائم کر رکھی ہیں۔ آئے دن کوئی نہ کوئی قصہ ان کے درمیان چھڑ جاتا ہے اسی بنا پر کشیدگی یہاں زندہ ہے۔ مثلاً بابری مسجد جیسے کیس پنجاب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page