ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
میں بھی کثرت سے ہیں۔ یہاں مسلمانوں نے اس قسم کی کوئی تحریک نہیں اٹھائی جیسی تحریک بابری مسجد کے لئے اٹھائی گئی۔ خوشی کی حالت بھی آدمی کے ذہن کو متحرک کرتی ہے اور غم کی حالت بھی۔ مگر دونوں میں یہ فرق ہے کہ خوشی آدمی کے دماغ کو انٹرسٹ کے رخ پر متحرک کرتی ہے اور غم آدمی کے دماغ کو اصولی باتوں کی طرف متحرک کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوش رہنے والا آدمی ظاہری حقائق کو خوب جانتا ہے مگر وہ گہرے حقائق سے بے خبر رہتا ہے۔ دوسری طرف غم پسند آدمی ظاہری حقائق سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ البتہ گہرے حقائق کی معرفت اس کو دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ ۲۴ اکتوبر ۱۹۹۱ مسٹر چندر شیکھر مانٹو سے ملاقات ہوئی۔ ان سے میں نے کہا کہ کوئی بات جو آپ نے پڑھی ہو بتائیے۔ انھوں نے پنجاب کیسری کی ایک بات بتائی جو چندی گڑھ سے شائع ہوتا ہے۔ ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۱ کو دسہرہ تھا جب کہ ہندو نہایت جوش و خروش کے ساتھ ہر جگہ راون کا پتلا جلاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پنجاب کیسری نے اپنے ۱۸ اکتوبر کے شمارہ میں لکھا تھا " راون کو جلانا ہے تو پہلے رام بنئے "۔ یہی بات مسلمانوں پر بھی صادق آتی ہے۔ مسلمان ہر سال نہایت دھوم کے ساتھ میلاد النبی کے جلسے کرتے ہیں۔ میں ان سے کہوں گا کہ میلاد النبی اور سیرت رسول کا جلسہ کرنا ہے تو پہلے رسول کو اپنی زندگی کے لئے اسوہ بنائیے۔ رسول کو اپنے لئے اسوہ نہ بنانا اور رسول کے نام پر جلسے کرنا محض ایک قومی ہنگامہ ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ۲۵ اکتوبر ۱۹۹۱ صحافت کی ایک اصطلاح بریکنگ نیوز (breaking news) ہے۔ ایک اخبار معمول کے مطابق مرتب کیا جا چکا ہے۔ اور اب پریس میں چھپنے کے لئے بھیجا جانے والا ہے۔ اچانک آخر وقت میں یہ خبر آتی ہے کہ وزیراعظم کو گولی مار دی گئی۔ تو اس کے بعد اخبار کے صفحہ اول کو فوری طور پر بدل دیا جائے گا اور وزیراعظم کے قتل کو پہلی نمایاں خبر کے طور پر شائع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader