ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
بریکنگ نیوز پوری زندگی اور سارے عالم کا نقشہ بدل دے گی۔ مولانا عبداللہ طارق صاحب (نظام الدین) کو زندگی کے بہت سے تجربات ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنا ایک تجربہ ان لفظوں میں بیان کیا: کسی کام کو انجام دینے کے لیے جس قدر علمی صلاحیت کی ضرورت ہے اس سے کہیں زیادہ اس عملی صلاحیت کی ضرورت ہے جس سے آدمی موانع راہ پر قابو پا سکے۔ ۲۷ اکتوبر ۱۹۹۱ محمد تاج الدین راج (پیدائش ۱۹۶۷، اس وقت بی ایس سی (ایگریکلچر) کے طالب علم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۸۵ میں ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ دو سال تک وہ زیر علاج رہے۔ پڑھائی چھوٹ گئی۔ اس حادثے کے بعد وہ سخت مایوس ہو گئے۔ انھوں نے سمجھا کہ اب میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتا۔ میری زندگی ختم ہو گئی۔ اسی درمیان ان کو الرسالہ ملا۔ اس میں انھوں نے پڑھا کہ عذر کو عذر نہ بناؤ۔ آدمی کا ماضی اور حال تباہ ہو جائے تب بھی اس کا مستقبل محفوظ رہتا ہے۔ اس قسم کی باتوں سے ان کے اندر نیا عزم اور حوصلہ پیدا ہو گیا۔ انھوں نے داخلہ لیا۔ وہ فرسٹ آئے اور پھر انھیں بی ایس سی (ایگریکلچر) میں داخلہ مل گیا۔ انھوں نے پرجوش طور پر کہا کہ الرسالہ نے مجھے وہ چیز دے دی جو کسی اور نے مجھ کو نہیں دی تھی۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے خلاف آجکل بہت مضامین اور کتابیں چھپ رہی ہیں۔ ہر جگہ آپ کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور آپ خاموش ہیں۔ آپ کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader