ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
عظمیه ، دعوا مما عظمیه) اول دن سے یہ اندیشہ تھا کہ خلیج کی لڑائی شروع ہونے کے بعد عراق فوراً اسرائیل پر حملہ کرے گا۔ تاکہ اسرائیل جب اس کے خلاف جوابی حملہ کرے تو یہ مشہور کیا جاسکے کہ یہ عرب اسرائیل جنگ ہے ، اور اس طرح تمام مسلم ملکوں کو عراق کا حامی بنالیا جائے۔ اس امکانی خطرہ سے بچنے کے لئے امریکہ نے یہ کیا کہ اس نے عراق کے ان فوجی اڈوں پر سخت حملہ کیا، جہاں سے اسرائیل کے خلاف مار کرنے کے لئے دور مار میزائل نصب تھے۔ مگر تین دن کے مسلسل حملوں کے باوجود اسرائیل پر عراق کے حملہ کی صلاحیت ختم نہیں ہوئی۔ عراق نے اولاً ۱۸ جنوری کو اور پھر ۲۰ جنوری کو اسرائیل کے شہروں (تل ابیب اور حیفا) پر میزائلوں سے حملے کئے اور جان و مال کا نقصان پہنچایا۔ امریکہ نے اسرائیل کے ذمہ داروں سے کہا تھا کہ تم اس جنگ میں خاموش رہو۔ ہم عراق کی اس صلاحیت ہی کو کچل دیں گے کہ وہ تمہارے اوپر حملہ کر سکے۔ یہ رشلم اور تل ابیب کی رپورٹ ہے کہ وہاں کے اسرائیلی اس بات پر غصہ ہو رہے ہیں کہ وہ ہم کو جنگ میں شرکت سے روک رہے ہیں اور خود عراق کے میزائلوں کو برباد کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۰ جنوری) کے صفحہ اول کی ایک خبر میں اس کی توجیہ کی گئی ہے ۔ عراق کا ایک اپوزیشن گروپ جو اپنے کو کونسل آف اسلامک ریوولیوشن کہتا ہے اور ایران میں رہ کر کام کر رہا ہے، اس کے ترجمان (الصغیر) نے کہا کہ اکثر عراقی میزائل جن کے متعلق امریکہ کی ترجمان فوجوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اپنے ہوائی حملوں سے ان کو برباد کر دیا ہے وہ اصلی نہیں تھے بلکہ ڈمی تھے جو پلاسٹک یا المونیم سے بنائے گئے تھے۔ اگر یہ خبر صحیح ہو تو اس سے انسان کی محدودیت ثابت ہوتی ہے ، امریکہ کے جاسوسی سیاروں نے عراق کی نہایت مکمل تصویریں فراہم کیں۔ ان کی روشنی میں امریکہ کے جدید ترین جہازوں نے انتہائی (pin-point) بماری کی۔ مگر کامیاب بماری ناکام ثابت ہوئی۔ کیوں کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader