Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

جوابی کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔ میں نے عربی کا یہ شعر پڑھ کر سنایا: قیل أن الإله ذو ولد قیل أن الرسول قدکه‌نا مانجا اللہ والرسول معا من لسان الورى فكيف انا ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۱ کسی بزرگ کا قول ہے کہ میرا سب سے اچھا دوست وہ ہے جو مجھے کو میری غلطیاں بتائے (ابن الصديق الى الذى يهدى الى اخطائی) ان کو الفاظ کی زبان سے ادا کرنا انتہائی آسان ہے مگر ان پر واقعہ عمل کرنا انتہائی حد تک مشکل ہے۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۱ موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین کی مشترک غلطی یہ ہے کہ ان میں سے تقریباً ہر ایک نے یہ فرض کر لیا کہ امت مسلمہ پہلے سے موجود رہے۔ اب ان کا کام صرف یہ ہے کہ اس موجودہ ملت کو کسی نہ کسی طرح جوش دلا کر اس کو کھڑا کر دیا جائے۔ مگر یہ اندازہ ہلاکت خیز حد تک غلط تھا۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ مسلمان ایک زوال یافتہ قوم کی سطح پر پہنچ چکے تھے۔ ایسی حالت میں کرنے کا اصل کام صرف یہ تھا کہ اس قوم کو از سرِ نو ایک زندہ ملت بنا دیا جائے ۔ اس کے افراد میں دوبارہ ایمانی شعور اور ربانی اسپرٹ کا طوفان پیدا کیا جائے ۔ اس ابتدائی کام کے بغیر اقدام صرف خود کشی کے ہم معنی تھا۔ مگر ہر ایک نے یہی کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ایک کا اقدام امت کے حق میں صرف خود کشی کی چھلانگ ثابت ہوا۔ ۳۱ اکتوبر ۱۹۹۱ ۱۹۴۷ میں اقوام متحدہ کے رزولیوشن نمبر ۱۸۱ کے تحت اسرائیل کا قیام وجود میں آیا تو سوویت یونین اس کے حامیوں میں سے تھا۔ روس نے فوراً اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لئے۔ اسرائیل میں باہر سے آ کر جو یہودی آباد ہوئے ان میں اکثریت روس کے یہودیوں کی تھی۔ ۱۹۵۳ میں روس نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات توڑ لئے تھے۔ اس کی وجہ فلسطینیوں سے ہمدردی نہیں تھی بلکہ فروری ۱۹۵۳ میں تل ابیب کے روسی سفارت خانہ میں بم پھٹا تھا اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page