ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
1991 میں روس نے دوبارہ اسرائیل سے اپنا سفارتی تعلق قائم کر لیا ہے۔ اسرائیل میں روسی یہودی اتنے زیادہ ہیں کہ اسرائیل کی سکنڈ لیسنگیج روسی زبان ہے (ٹائمز آف انڈیا ۳۱ اکتوبر (۱۹۹۱ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جمال عبدالناصر اور یاسر عرفات کا فلسطینی مسئلے کے حل کے لئے روس سے امیدیں قائم کرنا کتنا احمقانہ تھا۔ روس کبھی بھی اس معاملے میں عربوں کا ساتھی نہیں بن سکتا اور نہ کبھی بنا ہے۔ یکم نومبر 1991 مولانا فرید الوحیدی (حال مقیم جدہ) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ سعودی عرب میں بڑی تجارت کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ۳۱ اکتوبر کو انتہا پسند بڑی تعداد میں اجودھیا میں گھس گئے۔ انھوں نے بابری مسجد کی چہار دیواری توڑ ڈالی۔ مسجد کے تینوں گنبدوں پر اپنا بھگوا جھنڈا لہرا دیا۔ آج کے تمام اخباروں کے صفحہ اول کی یہ اہم ترین خبر ہے۔ مسلمانوں کے سابقہ مزاج کے تحت میں سمجھتا تھا کہ آج ضرور جگہ جگہ فساد ہوگا۔ مگر سارے ملک میں کہیں سے بھی جلوس یا فساد کی خبر نہیں آئی۔ پھر انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ الرسالہ کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ الرسالہ مشن نے لوگوں کی سوچ میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔ اب وہ برداشت اور اعراض کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں۔ ۲ نومبر 1991 امام الشافعی کا مشہور قول ہے کہ جب میرا قول سنت کے مخالف ثابت ہو جائے تو اس وقت میرے قول کو دیوار پر مار دو (اذ | اظهر فی قولی ما يخالف السنة فاضربو ا بقولی عرض الحائط حینئذ) موجودہ زمانہ میں ہر عالم اس قول کو مانتا ہے۔ مگر جب اس قول کی زد خود اس کی ذات پر پڑے تو وہ فوراً اس کا انکار کر دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر قول میں توجیہہ کی بے حساب گنجائش ہوتی ہے۔ اگر آدمی کے اندر اپنی غلطی کو ماننے کا جذبہ نہ ہو تو اس کے خلاف خواہ کتنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader