Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

ہی دلیل دی جائے وہ اپنے قول کی توجیہ کرتا رہے گا، وہ اپنی تصحیح کے لئے کبھی آمادہ نہ ہوگا۔ بخاری اور مسلم میں یہ روایت ہے کہ تم اپنے آپ کو ظن سے بچاؤ۔ کیوں کہ ظن سب سے بڑا جھوٹ ہے (ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث)، ظاہر الفاظ کے اعتبار سے دیکھئے تو ہر قسم کا ظن ممنوع قرار پاتا ہے۔ مگر شارحین حدیث نے صراحت کی ہے کہ حدیث میں جو چیز ممنوع ہے وہ حسن ظن نہیں ہے بلکہ سوء ظن ہے (ان النھی لیس عن کل الظن وانما النھی عن سوء الظن)، یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کلام خواہ بظاہر مطلق الفاظ میں ہو، مگر اس کا مفہوم اکثر اوقات مطلق نہیں ہوتا۔ ۴ نومبر ۱۹۹۱ ۴ نومبر کو میں پونہ میں تھا۔ وہاں انعام دار صاحب ایک بلڈر ہیں۔ انہوں نے وقف کی ایک جائیداد کو لے کر اس کے اوپر تعلیمی ادارہ بنانے کا ارادہ کیا۔ نقشہ یہ تھا کہ کئی منزلہ عمارت بنا کر اس کے اندر مختلف تعلیمی کلاس چلائیں گے۔ اس دوران وہ رقم حاصل کرنے کے لئے دبئی گئے۔ وہاں وہ شیخ کے یہاں پہنچے تو چندہ مانگنے والوں کی قطار لگی ہوئی تھی۔ ان کو بھی قطار میں بٹھا دیا گیا اور باری آنے پر دوسروں کی طرح انہیں ایک معمولی رقم دے دی گئی۔ انعام دار صاحب نے اس تجربہ کے بعد طے کیا کہ وہ چندہ کا طریقہ ختم کر دیں۔ انہوں نے مجوزه عمارت کا پورا حصہ کرایہ پر دینے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح لوگوں سے بڑی رقم بطور ایڈوانس حاصل کی اور اس سے بلڈنگ تیار کی اب اوپر کی منزلوں میں تعلیمی ادارے ہیں اور نیچے کے تمام حصے کرایہ پر ہیں۔ جن سے ۳۰ لاکھ روپیہ سالانہ کرایہ آئے گا۔ اس تبدیلی پر کچھ ممبران نے مخالفت کا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ پہلے پوری عمارت تعلیم میں لینے کا منصوبہ تھا۔ پھر آپ نے اس کے نیچے کے حصوں کو کرایہ پر کیوں دے دیا۔ میں نے مخالفین سے کہا کہ آپ اتنی سی بات پر مخالفت کا جھنڈا اٹھا رہے ہیں۔ صحابہ کرام نے اس سے بہت زیادہ بڑے قسم کے اختلافات کو برداشت کیا۔ اس کے بعد ہی اسلام کی تاریخ بن سکی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page