ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ اس دین کی مدد فاجر آدمی سے بھی کرے گا (ان اللہ لیؤید هذا الدين برجل فاجر) مسجد قریش میں نماز سے پہلے میں بیٹھا ہوا تھا ، اچانک میرے ذہن میں آیا کہ یہ حدیث دلائل نبوت میں سے ایک دلیل ہے فاجر آدمی ہمیشہ اپنے انٹرسٹ پر چلتا ہے۔ اگر وہ ذاتی انٹرسٹ کے بغیر کام کرنے لگے تو وہ مناجر نہ رہے بلکہ مخلص بن جائے۔ اس نکتہ کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس حدیث میں مستقبل کے اس دور کی طرف اشارہ ہے جبکہ دین کے اندر دنیوی فائدہ کا پہلو شامل ہو جائے گا۔ جب امت کی تعداد اتنی بڑھ جائے گی کہ اس کی بنیاد پر قیادت مل سکے گی۔ جب مسجد اور مدرسہ کے کام میں تجارتی پہلو شامل ہو جائے گا۔ جب دین کے نام پر عہدے اور منصب کا ملنا ممکن ہو جائے گا۔ جب یہ نوبت آئے گی تو فاجر شخص بھی دین کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ کیوں کہ دین کی راہ سے بھی اس کو وہی مادی نفع ملے گا جس کو وہ صرف دنیا سے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ۶ نومبر ۱۹۹۱ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت پسلی کی مانند ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرو گے تو تم اس کو توڑ دو گے۔ اور اگر تم اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ گے اور عورت کے اندر ٹیڑھ ہے (المراة كالضلع، ان اقمتها كسرتها وان استمتعت بها استمتعت) البخاری ، كتاب النکاح ، باب المداراة مع النساء ۔ خیال آیا کہ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ مخصوص طور پر صرف عورت سے متعلق نہیں۔ بلکہ وہ فطرت کا ایک قانون ہے جو ہر نا پسندیدہ صورت حال پر چسپاں ہوتا ہے۔ اس دنیا میں اکثر اوقات آدمی کے لئے دو میں سے ایک کا انتخاب (چوائس) رہتا ہے مگر وہ تیسرے انتخاب کو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ مثلاً پسلی کے معاملہ میں آدمی کو ٹیڑھی پسلی اور سیدھی پسلی میں چوائس نہیں ہے بلکہ ٹیڑھی پسلی اور ٹوٹی پسلی میں چوائس ہے۔ یہی تمام چیزوں کا حال ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader