ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ مذہبی تعصب کی بنیاد پر نہیں تھا۔ اس کا سبب سیاسی تھا ۔ ان مندروں میں سلطنت مغلیہ کے خلاف سازشیں کی جاتی تھیں۔ اور اگر ان کا تدارک نہ کیا جاتا تو سلطنت کا وجود خطرہ میں پڑ سکتا تھا۔ اس لئے اور نگ زیب کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔ بالکل اسی طرح جیسے سنت بھنڈرال والے کی شورش سے اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے اندرا گاندھی کو امرت سر کے سورن مندر پر یلغار کرنا پڑی۔ اندرا گاندھی کے اس اقدام کو کوئی بھی مذہبی تعصب کی کارروائی نہیں بتاتا ۔ صفحہ ۶ سیاسی سبب سے کسی شخص کو گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ مگر سیاسی سبب سے کسی مندر کو ڈھاکر وہاں مسجد بنانا سرا سر غلط اور غیر اسلامی فعل ہے ۔ اندرا گاندھی کی مثال بھی درست نہیں۔ کیوں کہ اندرا گاندھی نے امرتسر کے گورو دوارہ میں صرف ہتھیاروں کی تلاش کرائی تھی ۔ اس نے ایسا نہیں کیا کہ سکھ گورو دوارہ کو ڈھاکر اس کی جگہ ایک ہندو مندر کھڑا کر دے۔ ۸ نومبر ۱۹۹۱ ایک صاحب ملاقات کے لئے آئے ۔ انھوں نے ہندی زبان میں ایم اے کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں ، ہندوؤں میں دعوت کا کام کرنا چاہتا ہوں ۔ اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی تو وہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی سازشوں کی تفصیل بتانے لگے ۔ ان کے لفظ لفظ سے نفرت کا اظہار ہو رہا تھا۔ میں نے کہا کہ دعوت اور نفرت ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔ آپ پہلے اپنے دل سے ہندوؤں کی نفرت ختم کیجئے ۔ اس کے بعد ہی آپ ہندوؤں کے درمیان دین حق کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ادا کر سکتے ہیں۔ ۹ نومبر کو میں بمبئی میں تھا۔ بمبئی کے لئے میرا پہلا سفر ۱۹۴۲ یا ۱۹۴۳ میں ہوا تھا۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب کہ میں حق کی تلاش میں تھا اور دیوانگی کے عالم میں اِدھر اُدھر بھاگتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader