ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
پھرتا تھا۔ اب پچاس برس بعد میں بھی گیا تو میں حق کو دریافت کر چکا تھا اور میرے پاس ایک واضح پیغام تھا جس کو میں دوسروں کے سامنے پیش کر سکوں۔ ٹائم میگزین (۷ جنوری ۱۹۹۰) کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ کے صدر جارج بش نے کہا تھا کہ امریکہ اب واحد سپر پاور ہے۔ امریکہ خلیج کی جنگ میں فتح پا کر ویت نام کے ڈراونے خواب (Vietnam syndrome) سے نجات پا چکا ہے۔ اور اب آنے والے دور کا نام امریکہ کی صدی (American century) ہوگا۔ مسلم دانشوران الفاظ سے بھڑک اٹھتے ہیں اور منفی ذہن کے تحت امریکہ کو برا بھلا کہتے ہیں۔ حالاں کہ یہاں ایک مثبت اثر لینے کا موقع بھی موجود ہے۔ امریکہ اپنے نظریہ کے تحت امن امریکہ (Pax Americana) کا دور لانے کے لئے عالمی سطح پر مواصلاتی ذرائع پھیلارہا ہے ۔ مسلمان اگر داعیانہ انداز سے سوچیں تو انھیں معلوم ہوگا کہ یہ ان کے لئے ایک انتہائی نادر موقع ہے۔ جدید مواصلاتی نظام وہ خود قائم نہیں کرسکتے تھے۔ امریکہ نے اپنی طرف سے اس کو قائم کر دیا۔ اگر اس کو ہوش مندی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ اگلی صدی امریکی صدی نہ ہو بلکہ وہ اسلامی صدی بن جائے۔ ۱۱ نومبر ۱۹۹۱ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے سوویت روس کے مقابلہ میں جو جنگی حکمت عملی اختیار کی اس کا ایک خاص جزہ، وہ تھا جس کو اصول مزاحمت (strategy of deterrance) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسی برتر قوت کا حصول جس کی ہولناکی کو محسوس کر کے دشمن اپنے جارحانہ اقدام سے باز رہے۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی طریق جنگ ہے جس کو قرآن میں قوت مہر به کا حصول کہا گیا ہے۔ (الانفال ٦٠ ) دوسری جنگ عظیم سے پہلے دنیا میں برطانیہ کی عالمی بالادستی جس کو خوب صورت طور پر پیکس برطانیہ کا (Pax Britannica) کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد پیکس امریکا نا (Pax Americana) کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader