Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

دور شروع ہوا جو سوویت یونین کے زوال کے بعد زیادہ نمایاں طور پر قائم ہو گیا ہے۔ پچھلے دو سو سال سے مسلمانوں کے اوپر جو مادی ذہن چھایا ہوا تھا۔ وہ جہاد (بمعنی قتال) کے ذریعہ اسلام کے غلبہ کے دور کو واپس لانا چاہتے تھے۔ اب خلیج کی جنگ کے بعد بظاہر مسلمانوں کے لئے کسی نتیجہ خیز جنگ کے مواقع ختم ہو چکے ہیں۔ ایسی حالت میں ان مسلمانوں کو اپنا رول ختم ہوتا ہو نظر آ رہا ہے۔ ہر طرف مایوسی اور جھنجھلاہٹ کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ اب تک وہ بے فائدہ جنگ میں مصروف تھے اور اب وہ بے فائدہ مایوسی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اگر مسلمانوں کے اندر رو عوتی ذہن ہوتا تو ان کے لئے نہ پہلے مایوسی کا سوال تھا اور نہ اب ان کے لئے مایوسی کا سوال ہے۔ دعوت مسلمانوں کے حق میں ایک ایسی نظر نہتی طاقت ہے جس کا رول کبھی کسی حال میں ختم نہیں ہوتا۔ ۱۳ نومبر ۱۹۹۱ پاکستان بننے کے بعد سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ۱۹۴۸ میں وہ مہم شروع کی جس کو "مطالبہ نظام اسلامی" کی مہم کہا جاتا ہے۔ یعنی پاکستان میں اسلام کے قانونی نظام کو نافذ کرنا۔ مگر پچاس سالہ کوشش کے باوجود یہ مہم سراسر ناکام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس "مطالبہ" کی بنیاد محض ایک غلط مفروضہ پر قائم تھی۔ مولانا مودودی اور ان کے ساتھیوں نے یہ فرض کر لیا کہ 'پاکستان کی آزادی کے لئے مسلمانوں کی ساری جدوجہد اور قربانیاں صرف اس خاطر تھیں کہ وہ ان اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں، جن پر وہ ایمان رکھتے ہیں۔ اس لئے پاکستان کے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ پاکستانی عوام کی متفقہ خواہش کے مطابق ملک میں اسلامی قانون کا نفاذ کریں۔ یہ مطالبہ جس مفروضہ پر قائم ہے وہ بجائے خود بالکل غلط تھا۔ یعنی یہ کہ مسلمانوں نے پاکستان اس لئے بنوایا کہ اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ اس مفروضہ کی غلطی اس سے واضح ہے کہ حکومتی ادارہ سے باہر جو اسلامی اصول ہیں، ان پر عمل کرنا ہر وقت ان مسلمانوں کے لئے ممکن تھا مگر پاکستان بننے کے بعد بھی وہ ممکن دائرہ میں اسلامی اصول پر عمل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page