Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

ذکر کر سکے۔ ۱۲-۱۳ نومبر کو میں شو لا پور میں تھا۔ ۱۴ نومبر کو وہاں سے واپسی ہوئی۔ شو لا پور میں کئی اجتماعات ہوئے۔ ہر اجتماع میں وہاں کا اعلی تعلیم یافتہ طبقہ بڑی تعداد میں شریک ہوا۔ سفر سے پہلے مجھے شولا پور کے بارہ میں کوئی اندازہ نہ تھا۔ الرسالہ کی دعوت اب ہر جگہ تعلیم یافتہ لوگوں کے حلقہ میں داخل ہو گئی ہے۔ الحمد للہ ۱۵ نومبر ۱۹۹۱ نیپال کی کل آبادی ۱۰ ملین ہے۔ ان میں تقریبا ڈیڑھ ملین مسلمان ہیں۔ ایک نیپالی عالم عبد اللہ عبد التواب کا انٹرویو الدعوة (۴ نومبر ۱۹۹۱) میں چھپا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نیپال میں ہماری سب سے بڑی مشکل تعصب ہے (التعصب ابرز مشاكلنا) آج تمام دنیا کے مسلم دانشور اسی قسم کی بولی بول رہے ہیں۔ میں اس کو بالکل لغو سمجھتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم قائدین زمانہ حال کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے مسلمانوں کو غلط رہنمائی دی۔ اس کے نتیجہ میں مسلمان ہر جگہ دوسری قوموں سے پھتر گئے۔ اس پھڑے پن کے نتیجہ میں مسلمانوں کو جو مسائل در پیش ہیں ان کو وہ "تعصب" کا نام دئے ہوئے ہیں۔ ۱۶ نومبر ۱۹۹۱ ایک عرب نوجوان نے یہ سوال کیا : لماذا لا أصبح الخوض فى اعراض الناس عند البعض ا سهل من تنفس الهواء (کیوں ایسا ہے کہ لوگوں کی آبرو پر کلام کرنا کچھ لوگوں کے لئے ہوا میں سانس لینے سے بھی زیادہ آسان ہو گیا ہے)۔ اس کا جواب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے دل سے خدا کا خوف نکل گیا ہے۔ اس لئے انھیں لوگوں کی آبرو پر حملہ کرنے میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ ہندی ہفت روزہ پانچ جنبہ کے نمائندہ مسٹر سبھاش چندر سنگھ نے انٹرویو لیا۔ انٹرویو تقریبا ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ آخر میں مسٹر سبھاش نے کہا : شہاب الدین کے ساتھ بیٹھنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page