ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
میں من کڑوا ہو جاتا ہے۔ آپ کے ساتھ بیٹھنے میں من کو لائٹ ملتی ہے۔ آج ایک صاحب نے بتایا کہ بنگلور شہر کے وسطی علاقہ میں عیسائیوں کی ایک زمین تھی۔ اس کا رقبہ ایک ایکڑ تھا۔ گورنمنٹ اپنی کسی اسکیم کے تحت اس کو لینا چاہتی تھی۔ گورنمنٹ کا کہنا تھا کہ یہ زمین آپ ہم کو دیدیں۔ اس کے بدلے شہر کے باہر ہم آپ کو بہت بڑی زمین دیدیں گے۔ چرچ کے ذمہ داروں نے گورنمنٹ کی اس درخواست پر غور کر کے اسے منظور کر لیا۔ اس کے بدلے گورنمنٹ نے بنگلور شہر کے باہر پانچ سو ایکڑ زمین دے دی۔ چرچ والوں نے اس کو قبول کر لیا اور وہاں کا مپلیکس بنا کر ہر قسم کے ادارے کھول دئے۔ آج یہ جگہ عظیم مسیحی سنٹر بنی ہوئی ہے۔ ۱۹ نومبر ۱۹۹۱ رابطہ العالم الاسلامی کی طرف سے بڑے سائز پر ایک ہفتہ وار عربی اخبار نکلتا ہے۔ اس کا نام العالم الاسلامی ہے۔ اس کے شمارہ ۲۱ اکتوبر ۱۹۹۱ کے پہلے صفحہ کی پہلی خبر جو دیا کی بابری مسجد کے بارہ میں ہے۔ اس خبر کی سرخی جلی الفاظ میں اس طرح قائم کی گئی ہے : المتطرفون يطالبون بهدم المسجد البابرى قبل ۱۸ نومبر (ہندو انتہا پسند ۱۸ نومبر سے پہلے بابری مسجد کو ڈھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں) نومبر کی ۱۸ تاریخ گزر گئی اور ابھی تک بابری مسجد منہدم نہیں ہوئی۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم اخبارات و رسائل کس طرح فرضی خبریں شائع کر کے مسلمانوں کے ذہن کو مسلسل بگاڑ رہے ہیں۔ چند دیوانے ہندو اگر مسجد کو منہدم کرنے کی بات کریں تو مسلم دانشوروں کو فوراً اس کی خبر ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف ۹۵ فیصد سے زیادہ ہندو اس قسم کے نعروں کے خلاف ہیں، اور وہ مسلم دانشوروں کو دکھائی نہیں دیتا۔ کیسا عجیب ہے ان کا جاننا اور کیسا عجیب ہے ان کا نہ جاننا۔ روس میں کمیونسٹ انقلاب ۱۹۱۷ میں آیا۔ کمیونسٹ پارٹی کا نظریہ مسلح انقلاب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader