ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کی "مشینی آنکھوں" نے ظاہر کو تو دیکھ لیا مگر وہ باطن کو نہ دیکھ سکیں۔ جنوری ۱۹۹۱ کے دوسرے ہفتہ میں امریکہ کے فارن سکریٹری جیمز بیکر اور عراق کے وزیر خارجہ طارق حنا عزیز کی ملاقات جنیوا میں ہوئی۔ خلیجی نزاع کے معاملہ میں دونوں کسی اتفاق تک نہ پہنچ سکے۔ ملاقات کے بعد جنیوا کے ہوٹل میں پریس کانفرنس ہوئی۔ ایک اخبار نویس نے مسٹر طارق عزیز سے پوچھا کہ امریکہ اگر ۱۵ جنوری کے بعد عراق پر حملہ کر دے تو اس کے جواب میں عراق کیا اسرائیل پر حملہ کر دے گا۔ عراقی وزیر خارجہ نے بے رخی کے ساتھ جواب دیا کہ ہاں اور یقین ہاں: Yes, absolutely, Yes. (Time, January 21, 1991) یہ عراق کا سوچا سمجھا منصوبہ تھا کہ امریکہ کی طرف سے حملہ ہونے کے بعد فوراً وہ اسرائیل پر حملہ کر دے۔ اس کا خیال تھا کہ اس کے بعد اسرائیلی فوج عراق پر جوابی حملہ کرے گی ۔ اس طرح صدام حسین کو موقع مل جائے گا کہ وہ خلیج کی جنگ کو عرب ۔ اسرائیل جنگ کا عنوان دیدیں اور پھر تمام دنیا کے مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کر لیں ۔ اس منصوبہ کے مطابق عراق نے ۱۸ جنوری کو اسرائیل کے دو شہروں تل ابیب اور حیفا کو اپنے میزائلوں کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد ۱۹ جنوری کو دوبارہ عراق کے بالشک میزائل اسرائیل کے اندر گرے۔ اس حملہ سے اسرائیل کو نقصان بھی پہنچا۔ بہت سی عمارتیں برباد ہوئیں۔ بہت سے لوگ زخمی اور ہلاک ہوئے۔ مگر اسرائیل حیرت انگیز طور پر اس کے جواب میں خاموش رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ اور اسرائیل صدام حسین کی اس چال سے باخبر ہو گئے۔ امریکہ نے نہایت تاکید کے ساتھ اسرائیل کے ذمہ داروں سے کہہ دیا کہ عراق اگر حملہ کرے تب بھی وہ انتہائی برداشت (Utmost restraint) کا طریقہ اختیار کریں (ٹائمز آف انڈیا ۲۱ جنوری ۱۹۹۱)، اسرائیل جانتے تھے کہ اس وقت اگر وہ مشتعل ہو کر جوابی کارروائی کریں تو سارا کھیل بگڑ جائے گا۔ چنانچہ دوبارہ حملہ کے باوجود وہ جوابی حملہ سے مکمل طور پر رکے رہے۔ وہ اسرائیل جو فلسطینیوں کے پتھر کا جواب بم سے دیتا تھا، اس نے عراق کے میزائل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader