Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

کے موضوع پر تقریر کی ۔ حاضرین کی تعداد تقریبا تین ہزار تھی ۔ مجھے وہاں کا ماحول بہت پسند آیا ۔ نہایت صاف ستھرا اور تعمیری مزاج کا ماحول تھا۔ اسکول کے ریکرٹر نے گفتگو کے دوران کہا کہ صرف خدا ہماری مدد کر سکتا ہے : مسلمان موجودہ زمانہ میں علمِ جدید میں پچھڑ گئے۔ اور یہی موجودہ زمانہ میں ان کی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ پٹنہ کے دو صاحبان ملاقات کے لئے آئے ۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہمیشہ صبر و اعراض کی بات کرتے ہیں اور مسلمانوں کو جہاد سے روکتے ہیں۔ یہ اسلام کے مطابق نہیں۔ میں نے کہا کہ صبر بھی جہاد ہے۔ مگر آپ لوگوں نے صبر کو جہاد کے معنی میں لے لیا ہے، اس لئے آپ کو صبر و اعراض کی بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ میں نے کہا کہ میں صبر کو اس لئے اہمیت دیتا ہوں کہ خود قرآن وحدیث میں صبر کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے کہ ان الله مع الصابرين (البقرہ ۱۵۳)، انما يوفى الصابرون اجرهم بغير حساب (الزمر ۱۰)، حدیث میں ہے کہ اعلم ان النصر مع الصبر ۔ یہ قرآن وحدیث کے حوالے ہیں۔ اس کے برعکس قرآن وحدیث میں ایسا کہیں نہیں ہے کہ ان الله مع المقاتلين، انما يوفى المقاتلون اجرهم بغير حساب، اور یہ کہ اعلم ان النصر مع القتال - ایسی حالت میں آپ کو اپنی بات کہنے کے لئے پہلے قرآن وحدیث کا انکار کرنا پڑے گا۔ قرآن وحدیث کو مانتے ہوئے آپ ایسا کہنے کا حق نہیں رکھتے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ میں قرآن وحدیث کو نہیں مانتا۔ میں تو صرف عقل کو مانتا ہوں۔ تو اس کے بعد البتہ آپ سے عقلی سطح پر بات ہو سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی صفیہ تھیں۔ ان کا قد کسی قدر کم تھا ۔ ایک روز عائشہ کی زبان سے ان کی بابت یہ جملہ نکل گیا ؛ حسبك من صفية كذا وكذا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page