Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

(صفیہ کا یہی عیب کیا کم ہے کہ ان کا قد چھوٹا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سخت ناپسند کیا ۔ اور فرمایا کہ عائشہ، تم نے ایسی بات کہہ دی جس کو اگر سمندر میں ملا دیا جائے تو اس کو بھی وہ کڑا وہ کر دے۔ حضرت عائشہ نے جو بات کہی وہ نفس واقعہ کے اعتبار سے غلط نہ تھی۔ مگر انہوں نے یہ بات بطور واقعہ نہیں کہی تھی بلکہ بطور تحقیر کہی تھی، اس لئے وہ قابل ملامت ہوگئی۔ ایسی حالت میں جو لوگ ایک مسلمان کی کردار کشی کے لئے اس کے اوپر جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔ اس کی زندگی کے کسی پہلو کو غلط انداز میں پیش کرکے اس کو بدنام کرتے ہیں ، ان کا یہ فعل کس قدر قابل مذمت ہے۔ مزید یہ کہ حضرت عائشہ نے اپنی بات صرف اپنے گھر کے اندر ایک آدمی کے سامنے کہی تھی۔ جب کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی بات کو لاؤڈ اسپیکر پر بول کر دور تک پھیلاتے ہیں۔ وہ اس کو اخبار اور رسالے میں چھاپ کر ساری دنیا میں بکھیر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا جرم اس سے زیادہ ہے کہ اس کو لفظوں میں بیان کیا جاسکے۔ ۲۴ نومبر ۱۹۹۱ ہندوستان ٹائیمس (۲۴ نومبر) میں ڈاکٹر رفیق زکریا بمبئی والے کا مضمون چھپا ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کا سبب ہند و فرقہ پرست تنظیموں اور حکومت کی متعصبانہ پالیسی کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے شکایت کی ہے کہ ڈاکٹر گوپال سنگھ کمیشن اور گجرال کمیشن نے اپنی رپورٹوں میں مسلمانوں کے لئے جو غلامی تجویزیں رکھی تھیں حکومت نے اس کی تعمیل نہیں کی۔ وغیرہ مگر عین اس وقت جب کہ ہندو انتہا پسندوں کی زیادتی اور حکومت کا تعصب مسلمانوں کی معاشی ترقی کو روکے ہوئے ہے، خود ڈاکٹر رفیق زکریا کے دو صاحبزادے ارشد اور فرید ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں اور یہاں اعلیٰ تعلیم پا کر اب ہارورڈ یونیورسٹی اور ییل یونیورسٹی میں اپنی علمی تکمیل کر رہے ہیں۔ انھوں نے ان دونوں صاحبزادوں کے نام اپنی درج ذیل کتاب ڈیڈی کیٹ کی ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page