ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر رفیق زکریا کے لئے زیادہ بہتر یہ تھا کہ وہ ہند و حکومت کی شکایت کرنے کے بجائے قارئین کو یہ بتلاتے کہ اسی متعصب اور فرقہ پرست ملک میں انھوں نے کس طرح اپنے لڑکوں کو ترقی کے اعلیٰ ترین پر پہنچادیا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو وہ ان کے مسلم بھائیوں کے لئے زیادہ مفید ہوتا۔ کیوں کہ وہ اس میں اپنے لئے ایک عملی رہنمائی پالیتے۔ موجودہ مضمون سے تو مسلمانوں کو اس کے سوا کچھ اور ملنے والا نہیں کہ ان کی جھنجھلاہٹ اور مایوسی میں مزید کچھ اضافہ ہوجائے۔ ۲۵ نومبر ۱۹۹۱ ایک صاحب موجودہ زمانہ کی ان مسلم شخصیتوں سے متاثر تھے جن کو انقلابی مفکر بن کہا جاتا ہے۔ ان سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ خدا جب اپنی زمین پر ایک درخت اگانا چاہتا ہے تو وہ بیج سے اس کا آغاز کرتا ہے۔ اس طرح خدا فطرت کی زبان میں یہ پیغام دے رہا ہے کہ: My way is to begin from the begining اس کے برعکس مسلم مفکر کا حال یہ ہے کہ وہ پہلے ہی مرحلہ میں سیاسی انقلاب کا جھنڈا لے کر کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرکے اس پر قبضہ کرے اور پھر اسلامی قانون کی حکومت قائم کرے۔ اس کے برعکس مسلم مفکر کا نعرہ برعکس طور پر یہ ہے کہ: My way is to begin from the top یہ بلاشبہ غلط ہے کیوں کہ وہ فطرت کے طریقہ کے خلاف ہے اور خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ اس دنیا میں جو لوگ فطرت کے مقررہ طریقہ کے خلاف چلیں وہ ناکام و نامراد ہوکر رہ جائیں گے۔ قومی آواز (۲۶ نومبر) میں مسٹر عشرت علی صدیقی کا مضمون (صدام حسین کے بعد معمر قذافی کی باری) چھپا ہے۔ مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اپریل ۱۹۸۶ میں امریکہ نے لیبیا کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader