Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

شہر بن غازی پر حملہ کر دیا۔ اس وقت امریکہ کے صدر رونالڈ ریگن تھے۔ اس حملہ میں قذافی کا مکان برباد ہو گیا۔ اس مکان کو حکومت لیبیا نے اسی برباد شدہ حالت میں برقرار رکھا ہے ۔ وہاں ایک تختی لگا دی گئی ہے جس پر لکھا ہوا ہے : اس گھر پر بم باری اس بات کا ابدی ثبوت ہے کہ اصلی دہشت گرد کون ہے ۔ بن غازی میں معمر قذافی کی یہ تباہ شدہ رہائش گاہ میں نے جون ۱۹۸۸ء میں دیکھی تھی جبکہ میں نے ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے لیبیا کا سفر کیا تھا۔ ایک واقعہ یہ ہے۔ دوسری طرف ۲۱ دسمبر ۱۹۸۸ء کو ایک اور واقعہ ہوا۔ امریکی ہوائی کمپنی (پین ایم) کا ایک مسافر بردار ہوائی جہاز اسکاٹ لینڈ میں لاکربی کے اوپر اڑ رہا تھا کہ اس کے اندر بم پھٹا۔ اس حادثہ میں جہاز کے ۲۷۰ مسافر ہلاک ہوگئے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ بم دوبیلی افسروں نے رکھا تھا۔ انھوں نے مالٹا میں ایک سوٹ کیس لیا۔ اور اس کے اندر جاپانی ٹرانسٹلر بم ڈال کر ہوائی جہاز کے اندر رکھوا دیا۔ اب امریکہ نے اس جہاز کے ٹوٹے اور جلے ہوئے ڈھانچہ کو اپنے یہاں محفوظ کر دیا ہے اور اس پر دوبارہ یہ الفاظ لکھ دئیے ہیں ؛ اس جہاز کے بم کے ذریعہ تباہی ہی اس بات کا ابدی ثبوت ہے کہ اصلی دہشت گرد کون ہے۔ کہانی کا نصف حصہ لیبیا نے لکھ رکھا ہے اور بقیہ نصف امریکہ نے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی ملک میں بھی منصفانہ نقطہ نظر پیدا نہ ہو سکا۔ لیبیا میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے اور امریکہ میں لیبیا کے خلاف ۔ قرآن میں اعدلوا (المائدہ ۸) کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ آدھی بات نہ کہو بلکہ پوری بات کہو۔ ۲۷ نومبر ۱۹۹۱ مولاناسید ابوالحسن علی ندوی کی ایک کتاب | الطريق الى المدينة | ہے ۔ اس کتاب کے آغاز میں شام کے مشہور بزرگ سید علی الطنطاوی کا مقدمہ ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ شام سے حجاز کا سفر پہلے زمانہ میں بڑی تیاریوں کے ساتھ شروع ہوتا تھا۔ اور مسافر کو طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار ہونا پڑتا تھا۔ اب ہوائی جہاز کے ذریعہ ہم چند گھنٹوں میں یہ سفر طے کر لیتے ہیں۔ مگر پہلے جو ذوق وشوق اور طویل سفر کے دوران حرمین کی زیارت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page