Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

کا جو اشتیاق دل میں پیدا ہوتا تھا وہ اب باقی نہ رہا۔ ہم نے وقت کو تو بچایا مگر عواطف کو ہم نے کھو دیا۔ (کسبنا الوقت وخسرنا العواطف) مجھے اس تبصرہ سے اتفاق نہیں "عواطف" کا تعلق مشکل سفر یا آسان سفر سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق مسافر کی قلبی صلاحیت سے ہے۔ آدمی کا قلب اگر زندہ ہو تو وہ ہر حالت میں عواطف کی غذا پاتا رہے گا۔ پر مشقت سفر میں اگر عجز کا تجربہ اس کو ستار مطلق کی یاد دلائے گا تو آسان سفر میں اس کے اندر خدا کی نعمتوں کا احساس ابھرے گا۔ پہلی صورت میں اس کی آنکھیں عجز کے آنسو بہائیں گی اور دوسری صورت میں شکر کے آنسو۔ ۲۸ نومبر ۱۹۹۱ الفضیل بن عیاض سمرقند میں پیدا ہوئے، مکہ میں ۱۰۸ ھ میں ان کی وفات ہوئی ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : المومن قلیل الکلام کثیر العمل والمنافق کثیر الکلام قلیل العمل (مومن کم بولنے والا اور زیادہ کرنے والا ہوتا ہے۔ اور منافق زیادہ بولنے والا اور کم کرنے والا ہوتا ہے) مومن کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کو قلیل الکلام اور کثیر العمل بنا دیتی ہے۔ اس کے برعکس منافق ایک بے حس آدمی ہوتا ہے اور اس کی بے حسی اس کے اندر یہ صفت پیدا کر دیتی ہے کہ وہ عمل میں کم اور قول میں زیادہ ہو۔ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ مصطفیٰ صادق صاحب ریڈیو وفاق، لاہور، دہلی آئے اور تین دن قیام کیا۔ وہ پاکستان کے اسلام پسند لوگوں میں ہیں اور جماعت اسلامی اور مولانا ابو الاعلیٰ مودودی سے نہایت گہرے طور پر وابستہ رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مولانا مودودی کے ساتھ بہت سے اعلیٰ صلاحیت کے لوگ جڑے۔ اور پھر ان کی زندگی ہی میں ان سے الگ ہو گئے۔ دوسری طرف ہندوستان میں ہم دیکھتے ہیں کہ گاندھی کے ساتھ اعلیٰ صلاحیت کے لوگ وابستہ ہوئے اور وہ آخر وقت تک گاندھی سے الگ نہیں ہوئے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page