ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مولانا مودودی ایک صاحب فکر آدمی تو ضرور تھے مگر عملی صلاحیت ان کے اندر نہیں تھی۔ قاہرہ کے سفر میں ایک مصری نے یہ لطیفہ بتایا کہ ایک شخص کسی بخیل کے یہاں مہمان ہوا۔ کھانا دستر خوان پر رکھا گیا اور مہمان نے کھانا شروع کیا تو بخیل میزبان نے کہا کہ دیکھو، اطباء کا قول ہے کہ پیٹ کے تین حصے کرو۔ ایک حصہ کھانے کے لئے، دوسرا حصہ پانی کے لئے اور تیسرا حصہ ہوا کے لئے۔ مہمان نے جواب دیا: کُلِ انسانٍ اَعْلَمُ بِسِلَّتِہ (ہر آدمی اپنے تیسرے حصہ کو زیادہ جانتا ہے) یکم دسمبر ۱۹۹۱ء مولانا حمید الدین فراہی پر ۸ - ۱۰ اکتوبر ۱۹۹۱ء کو مدرسۃ الاصلاح سرائیر میں "فراہی سیمینار ہوا۔ میرے نام بھی دعوت نامہ آیا تھا مگر میں اس میں شرکت نہ کر سکا۔ مولانا فراہی اپنی کتاب فی ملکوت اللہ میں لکھتے ہیں کہ خلافت علی منہاج النبوۃ کا قیام امت مسلمہ کا نصب العین ہے۔ اسی طرح مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا کہنا ہے کہ حکومت الہیہ کا قیام امت مسلمہ کا نصب العین ہے۔ یہ دونوں صاحبان مفسر قرآن ہیں۔ مگر حیرت ہے کہ وہ ایک ایسی بات کو امت کا نصب العین بتاتے ہیں جس کا سارے قرآن میں کہیں ذکر ہی نہیں۔ ذکر سے میری مراد، براہ راست ذکر ہے۔ کسی آیت سے اگر استنباطی طور پر یہ نصب العین نکالا جائے تو میرے نزدیک وہ نکلا ہی نہیں۔ کیونکہ مشن کے درجہ کی چیز کو براہ راست عبارت النص سے نکلنا چاہئے نہ کہ بالواسطہ استنباط سے۔ ۲ دسمبر ۱۹۹۱ء بمبئی کے ایک مسلم نوجوان رجا وید صاحب) آئے ۔ ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ہندو تھیں ۔ اب انھوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اور مجھ سے ان کا نکاح ہو چکا ہے۔ ایک لڑکی بھی پیدا ہو چکی ہے۔ مگر خاتون کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader