ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
سے متفق نہیں ہیں۔ میں نے مسلم نوجوان سے پوچھا کہ کیا انھوں نے کلمہ پڑھ لیا ہے ۔ مگر خاتون نے فورا ہی ان کی بات کاٹی اور کہا کہ : I don't think so آجکل کثرت سے ایسے کیس ہو رہے ہیں۔ یا تو مذہب بدلے بغیر یا فرضی طور پر تبدیلی مذہب کا اعلان کر کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں شادیاں ہو رہی ہیں۔ یہ برائی مشترک تعلیم کے ذریعہ آ رہی ہے۔ تعلیم کے دوران دونوں میں دوستی ہو جاتی ہے۔ اور پھر وہ کسی نہ کسی طرح نکاح کی تقریب کر کے میاں بیوی بن جاتے ہیں۔ ۳ دسمبر ۱۹۹۱ ایک تعلیم یافتہ ہندو سے آواگن کے نظریہ پر بات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانوں میں کوئی اچھے حال میں ہے اور کوئی برے حال میں ۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ آواگن کا نظریہ درست ہے۔ کیوں کہ جو اچھے حال میں ہے وہ اپنے اچھے کام کا انعام پا رہا ہے۔ اور جو برے حال میں ہے وہ اپنے برے کرم کی سزا بھگت رہا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ اگر انعام ہے تو انعام پانے والے کو اس کا شعور ہونا چاہئے ۔ اسی طرح اگر یہ سزا ہے تو سزا پانے والے کو بھی اس کا شعور ہونا چاہئے ۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ دونوں میں سے کسی کے بھی زندہ شعور میں یہ بات موجود نہیں ۔ ایسی حالت میں یہ صرف ایک مفروضہ ہے نہ کہ حقیقت انعام اور سزا۔ واقعہ یہ ہے کہ انسانوں میں فرق ہونا انعام و سزا کا کوئی معاملہ نہیں۔ یہ در اصل نظام فطرت کا ایک معاملہ ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ پانے والے کے اندر عملی کیاں پیدا ہوتی ہیں اور آخر کار وہ ملی ہوئی چیز کو کھو دیتا ہے۔ اس کے برعکس کھونے والے کے لئے کھونا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ اور وہ مزید محنت کر کے کھوئی ہوئی چیز کو پا لیتا ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھ کر دیکھئے تو یہ فرق سادہ طور پر صرف حال اور مستقبل کا معاملہ نظر آئے گا۔ جس آدمی کو آج ملا ہوا ہے اس سے کل چھن جانے والا ہے۔ اور جو آدمی آج محروم ہے وہ کل از سر نو پانے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader