Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

عن علی الازدی قال : اردت الجھاد فقال لی ابن عباس : الا ادلک علی ما ھو خیر لك من الجھاد - تاتى مسجد افتقرى فيه القرآن وتعلم فيه الفقه ( الجامع لاحكام القرآن ۲۹۶/۸ علی از دی کہتے ہیں کہ میں نے جہاد کا ارادہ کیا تو عبد اللہ بن عباس نے مجھ سے کہا۔ کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جو جہاد سے زیادہ بہتر ہے۔ تم کسی مسجد میں چلے جاؤ اور اس کے اندر قرآن پڑھو اور شریعت سیکھو۔ جہاد (یعنی قتال) ایک وقتی ضرورت ہے۔ جب کہ دین میں تفقه حاصل کرنا ایک مستقل ضرورت۔ مخاطب وقتی ضرورت کو مستقل ضرورت سے زیادہ اہم سمجھنے لگا تھا اس لئے حضرت عبد اللہ بن عباس نے اس قسم کی نصیحت فرمائی۔ ۵ دسمبر ۱۹۹۱ عطاء الرحمان صاحب فیض آبادی ملاقات کے لئے آئے۔ مدرسۃ الاصلاح کی طالب علمی کے زمانہ میں ان کا ساتھ تھا۔ غالباً ۱۹۲۳ میں ان کے وطن جنگن پور گیا تھا۔ یہاں ان کے عزیز ماسٹر نقیب احمد سے ملاقات ہوئی۔ اس وقت اچانک بارش آگئی جو عام خیال کے مطابق بے موسم تھی۔ نقیب صاحب نے کہا: واہ اللہ میاں، برستے برستے بوڑھے ہوگئے مگر برسنا نہ آیا۔ عطاء الرحمان صاحب کے ساتھ میں اجودھیا گیا تھا۔ وہاں میں نے بابری مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی۔ اس کے بعد میں ممبئی گیا۔ وہاں عطاء الرحمان صاحب کے بہنوئی محمد شریف خاں سے ملا۔ وہ اس وقت ایک پارسی مسٹر لال کا کے یہاں ملازم تھے اور ان کے مکان پر رہتے تھے۔ میں اس مکان میں غالبأً دو دن ٹھہرا۔ اس کے بعد اعظم گڑھ واپس آگیا۔ عطاء الرحمان صاحب نے بتایا کہ میرے پاس ابھی تک آپ کی وہ تصویر ہے جو فیض آباد کے فوٹو گرافر نے ہوائی جہاز میں رکھ کر بنائی تھی۔ اس تصویر میں آپ ہوائی جہاز میں بیٹھے ہوئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page