Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ صرف تصویر ہے نہ کہ حقیقہ ہوائی جہاز کا سفر۔ ہندوستان ٹائیمس (۲۶ دسمبر) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ لندن کا مسلم انسٹی ٹیوٹ (ڈائرکٹر کلیم صدیقی) ۱۹۹۲ کے شروع میں لندن میں ایک اجلاس کرنے والا ہے جس میں ۲۰۰ برطانی مسلمانوں پر مشتمل " برطانی پارلیمنٹ " بنائی جائے گی۔ اس کا خاص مقصد برطانی مسلمانوں کے اسلامی تشخص Islamic identity کی حفاظت کرنا ہے۔ آفیشل اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد ایک ملین ہے۔ مگر مسلم تنظیمیں برطانی مسلمانوں کی تعداد دو ملین بتاتی ہیں۔ ڈاکٹر کلیم صدیقی اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ، برطانی مسلمانوں کو جو منہبی مسائل درپیش ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ برطانی اسکولوں میں ایسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں جو مسلمان بچوں کے عقائد سے ٹکراتے ہیں۔ ان کو یہ شکایت ہے کہ جغرافیہ کی کتابوں میں یورپی جغرافیہ کا بہت زیادہ تذکرہ ہوتا ہے اور تاریخ میں صلیبیوں کو اب ہیرو بتایا جاتا ہے: They criticise, geography deals too much with Europe and that in history, the crusaders are still described as heroes موجودہ مسلمان چاہتے ہیں کہ وہ ساری دنیا میں اپنے جغرافیہ کو اہم بتائیں۔ مگر دوسرے لوگ خود اپنے ملک میں بھی اپنے جغرافیہ کو اہمیت نہ دیں۔ مسلمان ساری دنیا میں صلاح الدین ایوبی کو ہیرو کہیں مگر دوسرے لوگ خود اپنے ملک میں بھی اپنے اسلاف کو ہیرو نہ کہیں۔ مسلمانوں کا یہ مزاج نہ زندگی کی علامت نہیں، وہ صرف موت کی علامت ہے۔ یہ حرکت مذہب ہی ہے نہ کہ حرکت حقیقی۔ ۷ دسمبر ۱۹۹۱ فقہاء اسلام کے یہاں ایک قاعدہ یہ ہے کہ کوئی بھی عام ایسا نہیں ہے جس سے بعض کو خاص نہ کیا گیا ہو (ما من عام الا خص عنه ا لبعض ) یہ فطرت کا قانون ہے۔ یہاں ہر عموم rule میں استثناء Exception ہوتا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page