Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ اس کو جاننا انتہائی ضروری ہوتا ہے آدمی نہ زندگی کو سمجھ سکے گا اور نہ شریعت کو۔ اپنے خیال کے مطابق وہ ایک صحیح کام کر رہا ہوگا۔ حالانکہ باعتبار حقیقت وہ غلطی پر ہوگا۔ فقہ کا ایک اصول وہ ہے جس کو استحسان کہا جاتا ہے۔ فقہاء اربعہ میں سے تین نے اس کو مانا ہے۔ خاص طور پر احناف نے اس کو بہت استعمال کیا ہے۔ استحسان سے مراد یہ ہے کہ ظاہری قیاس کو چھوڑ کر اس طریقہ کو اختیار کرنا جو لوگوں کے لئے زیادہ مناسب ہو (الاستحسان ترك القياس والاخذ بما هو ا وفق للناس)، المبسوط في الاستحسان للسرخسی۔ مثلاً ایک آدمی جو تہ ساز کے یہاں جاتا ہے۔ وہ اس سے جوتے کی قیمت طے کرتا ہے اور اپنا ناپ دے کر اس کو اپنے لئے ایک جوتا بنانے کا آرڈر دیتا ہے۔ قیاس کے اعتبار سے دیکھئے تو یہ درست نہیں۔ کیوں کہ حدیث کے مطابق، شریعت کا اصول یہ ہے کہ سودے کی موجودگی اس کی بیع کی صحت کے لئے ضروری ہے۔ اور مذکورہ مثال میں سودا (جوتا) ابھی موجود نہیں۔ مگر عرف عام کی بنا پر اس کو درست قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کا نام استحسان ہے۔ مگر امام شافعی اس کے سخت خلاف ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جس آدمی نے استحسان سے کام لیا اس نے نئی شریعت بنائی (من استحسن فقد شرع او وضع شرعا جديدا)، منهاج الاصول۔ اس قسم کے بے شمار اختلافات فقہاء کے یہاں پائے جاتے ہیں۔ قرآن میں ہے: قل كل يعمل علی شاكلته فربيكم اعلم بمن هو اهدی سبیلا (الاسراء ۸۴) اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے ذاتی شاکلہ سے مطابقت کی بنا پر سمجھ لیتا ہے کہ یہ حق ہے۔ حالانکہ حق وہ ہے جو علم الہی کے مطابق حق ٹھہرے۔ ہر آدمی کا ایک مزاج ہوتا ہے جو اس کے حالات کے تحت اس کے اندر بن جاتا ہے۔ اسی کا نام شاکلہ ہے۔ اپنے اس شاکلہ کی بنا پر کوئی چیز اس کے لئے قابل قبول ہوتی ہے اور کوئی چیز ناقابل قبول۔ اپنے مخصوص مزاج کے تحت وہ کسی مسلک کو اختیار کر لیتا ہے اور آخر کار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page