ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
کے جواب میں ایک گولی بھی نہیں چلائی۔ فریق ثانی کی سازش کو ناکام بنانے کا سب سے عمدہ طریقہ یہی برداشت کا طریقہ ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف سید احمد شہید بریلوی کے جہاد کو آپ صحیح نہیں سمجھتے۔ میں نے کہا کہ جو لوگ رنجیت سنگھ کی ہدایت کے لئے تڑپتے نہ ہوں، انھیں رنجیت سنگھ سے لڑنے کا حق بھی نہیں۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ سید صاحب اور ان کی جماعت نے رنجیت سنگھ کے اور پر تبلیغ کا حق ادا کیا ہو۔ انھوں نے رنجیت سنگھ کی ہدایت کے لئے دعائیں کی ہوں۔ جب انھوں نے ایسا نہیں کیا تو ان کے لئے رنجیت سنگھ سے لڑنا بھی صحیح نہیں ہوسکتا۔ جہاد کا اقدام دعوت کے بعد ہے نہ کہ دعوت کے بغیر۔ ۲۳ جنوری ۱۹۹۱ تہران سے ایک عربی پرچہ نکلتا ہے، وہ نصف شہر یہ ہے۔ اور اس کی پیشانی پر "صوت الثورة الاسلامية" لکھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۹ دسمبر ۱۹۹ صفحہ ۷، پر ایک مضمون کا عنوان ہے : امريكا، عدو صدام ام صديقه (امريکا صدام کا دشمن یا اس کا دوست ) اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کس طرح صدام حسین کے عراق کی مدد کرتا رہا ہے۔ مثلاً ۱۹۸۵ سے لے کر ۱۹۸۹ تک امریکہ نے عراق کو ۲۶۰ ملین ڈالر کی مدد کی ہے۔ امریکیوں نے عراق کی یہ مدد کیوں کی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکیوں نے یہ سمجھا کہ امریکی مفاد عراقی بازار میں پوشیدہ ہے جو پٹرول سے مالا مال ہے (فقد اقتنع الامريكيون ان المصالح الامريكية کامنة في السوق العراقية المدعومة بالنفط ) اس معاملہ میں 'اسلامی ایران' کا موقف بھی عین وہی ہے جو جو کافر امریکہ کا ہے۔ ایران کے نزدیک صدام حسین کی حیثیت شیطان کی تھی۔ مگر خلیج کا مسئلہ پیدا ہونے کے بعد صدام حسین نے یہ ہوشیاری کی کہ ایران کے جنگی قیدی واپس کردئے ۔ ایران کی زیر قبضہ زمین واپس کر دی ۔ شط العرب سے اپنا مطالبہ واپس لے لیا۔ اس کے بعد ایران صدام حسین کا حامی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader