ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح ہے۔ "تبلیغ" کے لوگ اپنے طریقہ کو نقل و حرکت کا طریقہ بتاتے ہیں ۔ وہ اس کو اہم سمجھتے ہیں اور قلم اور کتاب کا طریقہ ان کے نزدیک غیر اہم ہے۔ ایک تبلیغی عالم سے اس پر گفت گو ہوئی۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ کسی متعین کتاب کو غیر اہم بتائیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ مگر جب آپ کتاب کے طریقہ کو طریقہ کی حیثیت سے غیر اہم بتاتے ہیں تو آپ لوگ سخت غلطی کرتے ہیں۔ کیوں کہ متسلم اور کتاب اور قرات کا طریقہ قرآن میں بار بار بیان ہوا ہے۔ مگر نقل و حرکت کا طریقہ سارے قرآن میں کہیں بھی مذکور نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متسلم اور کتاب کا طریقہ منصوص طریقہ ہے۔ اور آپ کا نقل و حرکت کا طریقہ اجتہادی طریقہ۔ ۱۱ دسمبر ۱۹۹۱ء ایک صاحب نے کہا کہ مذہب شخصی معاملہ نہیں، مذہب پوری زندگی کا مکمل قانون ہے۔ میں نے کہا کہ یہ نظریہ بظاہر خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ مگر وہ بالکل بے معنیٰ ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ مذہب اصلاً ایک شخصی معاملہ ہے مگر عموماً وہ پوری زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ مذہب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے خدا کی یاد میں جینے کا نام ہے۔ اس اعتبار سے وہ سراسر شخصی معاملہ ہے۔ جس آدمی کے اندر مذہب کی حقیقت اتر جائے وہ ایک مختلف انسان بن جاتا ہے۔ اس کا فکر، اس کی عبادت، اس کا اخلاق، اس کی سرگرمیاں ہر چیز خدا کے رنگ میں رنگ جاتی ہیں۔ یہی اصل دین ہے۔ اس کے بعد جب ایسا ہوتا ہے کہ کسی سماج کے بہت سے لوگ اسی طرح دیندار بن جائیں تو اس وقت مذہب کا تعلق پوری اجتماعی زندگی سے ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader