Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ پہلی تعبیر میں مذہب "نفاذ" کا موضوع بن جاتا ہے اور دوسری تعبیر میں وہ "تعمیل" کا موضوع ہوتا ہے۔ یہ فرق بذات خود یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ پہلی تعبیر غلط ہے اور دوسری تعبیر صحیح۔ ۱۲ دسمبر ۱۹۹۱ آج صبح سرینگر سے جناب ابواللیث صدیقی صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ آج سرینگر کے اردو اخبارات میں صفحہ اول پر آپ کے خلاف ایک خبر چھپی ہے۔ اس میں کشمیر کی جنگجو تنظیم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ "مولانا وحید الدین خاں گمراہی پھیلا رہے ہیں۔ انھوں نے ہماری مجاہدانہ سرگرمیوں کو دہشت گردی کہا ہے۔ اس لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ پورے کشمیر میں ان کا رسالہ ان کی کتابیں ممنوع قرار دے دی گئی ہیں۔ جس شخص کے پاس بھی ان کی مطبوعات ہوں وہ فوراً ان کو برباد کر دے۔ پوسٹ آفس کو بھی ہمارا حکم ہے کہ ان کے رسالہ یا کتاب کا کوئی پیکٹ آئے تو کشمیر میں اس کی ڈلیوری نہ دے۔ ہمارے خصوصی اسکواڈ اس کی نگرانی کریں گے۔ آج ہی آفاق سے اردو ہفتہ وار ملٹر کے چیف ایڈیٹر ہارون رشید صاحب آئے۔ ان سے میں نے اس خبر کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا: کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ اب آپ کا رسالہ اور زیادہ پڑھا جائے گا۔ ۱۳ دسمبر ۱۹۹۱ آج دوپہر کی فلائٹ سے مجھے راپچی جانا ہے۔ وہاں مسلمانوں اور غیر مسلموں کا ایک مشترک اجتماع ہے۔ اس میں تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوں گے۔ اور اس کا عنوان غیر مسلم صاحبان کے مشورہ سے یہ طئے ہوا ہے : سوشل جسٹس ان اسلام (اسلام میں عدلِ اجتماعی) یہ میرے لئے نیا موضوع ہے۔ میں اشعار کو پسند نہیں کرتا۔ مگر پہلی بار میں نے اپنے اجتماع کے لئے ایک نظم کا انتخاب کیا ہے۔ مولانا شبلی نعمانی کی ایک نظم "عدلِ جہانگیری" ہے جو ان کی کلیات میں شامل ہے۔ اس نظم کی فوٹو کاپی کر کے میں اپنے ساتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page