Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد مذکورہ موضوع پر میرا خطاب ہو۔ جہانگیر کے واقعہ کا تقابل میں اس کے معاصر برطانی بادشاہ جیمز فرسٹ کے واقعہ سے کرنا چاہتا ہوں۔ کراچی میں کچھ لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دسمبر ۱۹۷۹ میں سوویت یونین نے اپنی فوجیں افغانستان میں داخل کردیں۔ اس کے بعد افغانی مجاہدین اور روسیوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی ۔ آخر کار ۱۹۸۹ میں روسی فوجوں کو افغانستان سے واپس جانا پڑا۔ افغانی مجاہدین کا مقابلہ اب افغانی صدر ڈاکٹر نجیب اللہ سے تھا۔ مگر اب تک وہ نجیب اللہ پر غالب نہ آسکے ۔ اس خونی جنگ میں افغانستان تباہ ہوگیا اور کل افغانی آبادی کا دسواں حصہ (one-tenth) ہلاک ہوگیا ۔ زخمیوں کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔ روسیوں کی واپسی کو لوگ افغانی مجاہدین کا کارنامہ سمجھتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جن افغانیوں نے سپر پاور (روسی) پر فتح حاصل کرلی وہی منی پاور اور نجیب اللہ کے مقابلہ میں ناکام کیوں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ افغانستان کی جنگ ایک پراکسی وار (proxy war) تھی۔ اس میں امریکہ اور روس بالواسطہ طور پر لڑ رہے تھے۔ افغانی مجاہدین کو امریکہ پوری مدد پہنچارہا تھا۔ اور ڈاکٹر نجیب اللہ کو روس سے فوجی اور غیر فوجی مدد مل رہی تھی۔ افغانستان میں روس کے مقابلہ میں افغانیوں کی کامیابی دراصل روس کے مقابلہ میں امریکہ کی کامیابی تھی ۔ مگر مسلمانوں نے اپنی فخر پسندی کے تحت اس کو اپنا کارنامہ سمجھ لیا۔ مسلمانوں کا یہی وہ غیر حقیقی مزاج ہے جس کی بنا پر وہ معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ۱۵ دسمبر ۱۹۹۱ کراچی میں ۱۹۴۷ میں فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ اس کے بعد مسلمانوں میں "تقسیم" کا ذہن پیدا ہوا۔ مسلمان ہند و علاقوں کو چھوڑ کر مسلم علاقوں میں آنے لگے۔ دھیرے دھیرے دونوں کی آبادیاں ایک دوسرے سے الگ ہوگئیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page