ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر اب را پنڈی کے مسلمانوں کو دوسرا شدید تر مسئلہ در پیش ہے، اور وہ خود مسلمانوں کے مجرم عناصر کا ہے۔ یہ لوگ مسلم آبادی میں آکر اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے ہیں، اور اپنے بھائیوں کو آئے دن لوٹتے رہتے ہیں۔ مجھ سے ایک مسلم تاجر نے بتایا کہ انھوں نے رقم جمع کر کے ڈیڑھ لاکھ روپیہ اکٹھا کیا اور اسکوٹر پر لے کر بینک کے لئے روانہ ہوئے۔ مسلم داداؤں نے راستہ ہی میں ریوالور دکھا کر چھین لیا۔ حتی کہ اب یہ حالت ہے کہ مسلم گھروں سے لڑکیوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ اور کئی کئی دن تک اپنے یہاں رکھ کر واپس پہنچا دیتے ہیں۔ کوئی ان لوگوں کے خلاف بولنے والا نہیں۔ میں نے کہا کہ اصل کام مسلمانوں کی اخلاقی اصلاح ہے۔ جب تک مسلمانوں کی اخلاقی اصلاح نہ ہو ہر دوسری تدبیر الٹی پڑے گی۔ ۱۶ دسمبر ۱۹۹۱ ہفت روزہ تعمیر حیات (۱۰ دسمبر ۱۹۹۱) میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی تقریر چھپی ہے جو انھوں نے لکھنو میں دینی تعلیمی کونسل کے جلسہ منعقدہ ۲۲ اکتوبر میں کی تھی۔ اس تقریر کا ایک حصہ یہ ہے : مولانا علی میاں نے ارکان کونسل کے جلسہ میں کہا: ”میں تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے اور اس حیثیت سے کہ مجھے دنیا کے بے شمار ملکوں میں جانے اور قوموں کے عروج و زوال کے مطالعہ کی سعادت حاصل ہوئی ہے، یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج ملت اسلامیہ جن مسائل سے دوچار ہے اور جن خطرات نے اس کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے یہ کیفیت اس سے پہلے نہیں تھی“۔ اقوام متحدہ کے ممبر ممالک کی کل تعداد ۱۷۶ ہے۔ ایسی حالت میں سمجھ میں نہیں آتا کہ کون سے ”بے شمار ممالک ہیں جن کی زیارت کا موقع مولانا کو ملا ہے۔ اس سے قطع نظر، ملت کے عملی مسائل کو جاننے کے لئے بے شمار ملکوں کا مطالعہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کی ضرورت اگر ہے تو مسائل کا حل بتانے کے لئے ہے۔ اور یہ حل میرے علم کے مطابق مولانا نے ابھی تک نہیں بتایا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader