Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

قدرت کا ایک منظر دیکھ کر دل نے کہا — دنیا امکاناتِ جنت کا تعارف ہے۔ خوش نصیب ہے وہ جو امکان کی جھلکیوں میں واقعہ کا منظر دیکھ لے اور حقیقی معنوں میں اس کا طالب بن جائے۔ ۱۸ دسمبر ۱۹۹۱ ایک صاحب نے پوچھا کہ الرسالہ کا مقصد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ الرسالہ ایک مشن ہے۔ الرسالہ کا مقصد ہے — ایک ایسی دنیا جہاں لوگ صرف انسانوں سے فیض لینا جانتے ہوں ان کو خدا سے فیض لینے والا بنانا۔ جہاں لوگ مادی دریافت کو کامیابی سمجھتے ہوں وہاں ان کو روحانی یافت کو کامیابی سمجھنے والا بنانا۔ جہاں لوگ صرف دنیوی ساز و سامان کی سطح پر جی رہے ہوں وہاں لوگوں کو اخروی حقائق کی سطح پر جینے والا بنانا۔ ۱۹ دسمبر ۱۹۹۱ اشتراکی ایمپائر ٹوٹ کر بکھر گیا۔ اب عظیم سوویت یونین ہمیشہ کے لئے تاریخ کا جزء بن چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد سے مجھے جولائی ۱۹۹۰ میں سوویت روس جانے کا موقع ملا اور اس کو میں قریب سے دیکھ سکا۔ اگر یہ سفر نہ ہوا ہوتا تو پھر کبھی میں سوویت یونین کو دیکھ نہیں سکتا تھا — آج میں نے ایک صاحب سے یہ بات کہی۔ ۲۰ دسمبر ۱۹۹۱ شکیل احمد خاں انجینئر اور ان کے بھائی راشد احمد خاں نے مل کر بجلی کا ایک کام شروع کیا ہے۔ وہ الکٹرک ٹاور نصب کرنے کا ٹھیکہ لیتے ہیں۔ انھیں ایک اعلیٰ صلاحیت کے جنرل منیجر کی ضرورت تھی۔ اس وقت انڈیا میں اس میدان میں ٹاپ کا آدمی ایک ہندو انجینئر ہے جس کا نام سنتوش کمار اروڑہ ہے۔ مسٹر شکیل اور مسٹر راشد نے مسٹر اروڑہ کو راضی کیا کہ وہ اپنی سابقہ سروس کو چھوڑ کر ان کے یہاں آجائے۔ پہلے اس کو سولہ ہزار روپیہ مہینہ مل رہا تھا۔ انھوں نے ان کو مزید سہولتیں دیں۔ اس کے بعد اب اس کی ماہانہ آمدنی ۲۰ ہزار روپے ہوگئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page