Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

جس ہندوستان میں مسلمانوں کو ایسے مواقع حاصل ہوں وہاں یہ فریاد کرنا کہ یہاں ہمارے لئے مواقع نہیں بالکل لغوہے۔ شکیل احمد خاں انجینئر شارجہ میں کام کرتے ہیں۔ وہ کل آئے اور دہلی میں اپنے بھائی راشد احمد خاں کے یہاں ٹھہرے ۔ کل شام کو مجھ سے ملاقات میں انھوں نے کہا کہ میں اور میری بیوی سلمہ دونوں تذکیر القرآن پڑھتے ہیں ۔ مگر قرآن کی ایک آیت آپ کی تشریح کے باوجود میری سمجھ میں نہیں آئی ۔چوں کہ انھیں حوالہ یا د نہیں تھا ، اس لئے اس پر کوئی گفت گو نہیں ہو سکی۔ آج صبح سویرے وہ دوبارہ مجھ سے ملے ۔ انھوں نے بتایا کہ رات کو میں نے ٹیلیفون پر اپنی بیوی سے بات کی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ سورہ الفرقان کی آیت نمبر ۷ ہے ۔ اس کے بعد شکیل احمد صاحب سے اس آیت پر گفت گو ہوئی ۔ اور وہ مطمئن ہو گئے۔ میں نے سوچا کہ موجودہ زمانہ میں جدید مواصلات communication کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیسی عجیب نعمت دی ہے ۔ مگر شاید ہی دنیا میں کوئی شخص ہو جو اس عجیب نعمت پر حقیقی معنوں میں شکر ادا کرتا ہو ۔ ۲۲ دسمبر ۱۹۹۱ء ایک صاحب سے جنت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا ۔ جنت کوئی مسٹریڈ چیز نہیں۔ جنت در اصل امپر فیکٹ کے مقابلہ میں پرفیکٹ دنیا کا نام ہے ۔ پرفیکٹ مکان ، پرفیکٹ پارک ، پرفیکٹ ماحول ، پرفیکٹ ملاقاتیں ، پرفیکٹ سامان ، غرض ہر چیز جہاں پر فیکٹ ہو اسی کا نام جنت ہے ۔ موجودہ دنیا میں ہماری تمام مطلوب چیزیں موجود ہیں ۔ مگر وہ امپر فیکٹ حالت میں ہیں ۔ جنت میں یہی تمام چیزیں پرفیکٹ صورت میں ہمیشہ کے لئے دیدی جائیں گی ۔ دینی دعوت کا مقصد اصلاً صرف یہ ہے کہ انسان جہاں اپنے مطلوب فطرت کو امپر فیکٹ دنیا میں تلاش کر رہا ہے ، اس کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنی فطرت کی طلب کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page