ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
پرفیکٹ دنیا میں تلاش کرنے لگے۔ موضوعی مطالعہ کرنے والے کو، انسانی تاریخ میں دو باتیں بڑی عجیب نظر آتی ہیں، ایک غلبہ خداوندی۔ دوسرے، انقلاب محمدی۔ غلبہ خداوندی سے مراد وہ شعور عبودیت ہے جو تمام انسانوں میں موجود ہے۔ وہ کسی طرح ختم نہیں ہوتا۔ روس کی اشتراکی حکومت نے تمام طاقت و ذرائع کو استعمال کر کے ۷۵ سال تک خدا اور مذہب کو مٹانے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ وہ پوری نسل ختم ہوگئی جو قدیم روایتی دور میں پیدا ہوئی تھی۔ مگر آج روس میں آزادی ملی تو حال یہ ہے کہ وہاں مسجدیں اور چرچ دوبارہ پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ خدا کا شعور انسان کی فطرت میں اس طرح پیوست ہے کہ وہ کسی بھی طرح ختم نہیں ہوتا۔ دوسری چیز وہ انقلاب ہے جو رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ دنیا میں آیا۔ یہ انقلاب اتنا گہرا اور اتنا ہمہ گیر تھا کہ اس کے اثرات آج تک ختم نہ ہوسکے۔ یہ اسی انقلاب کا اثر تھا کہ پیغمبر اسلام کے ہزار سال بعد شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ ایک راہ گیر کو قتل کر دیتی ہے۔ مفتی شرع کہتا ہے کہ ملکہ کے قتل کے جواب میں قتل کی جائے گی اور جہاں گیر کی ہمت نہیں ہوتی ہے کہ وہ کہے کہ میں اس مفتی کو نہیں مانتا۔ جب کہ جہانگیر کا معاصر برطانوی بادشاہ جیمز فرسٹ اس سے کم تر بات پر جسٹس کوک کے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ ۲۴ دسمبر ۱۹۹۱ء ایک صاحب نے سوال کیا کہ اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب تم کو ملے تو اس پر خدا کا شکر کرو اور جب نہ ملے تب بھی شکر کرو۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم کو ملے تو اس کو خدا کی عنایت سمجھو اور جب نہ ملے تو اس کو خدا کی مصلحت سمجھو۔ ایک صاحب جہاد (معنی قتال) کی پرجوش وکالت کر رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جہاد بالسيف ہی اسلام کا سب سے بڑا عمل ہے۔ میں نے کہا: اسلام ۹۹ فیصد غیر جہاد ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader