Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام ۹۹ فیصد جہاد ہے اور ایک فیصد غیر جہاد۔ حضرت عمر کا قول ہے کہ اگر میں تاجر ہوتا تو میں عطر کی تجارت کرتا۔ اگر مجھے اس کا فائدہ نہ ملے تو اس کی خوشبو پھر بھی مجھے مل جائے (قال عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ لو كنت تاجراً أما اخترت غير العطر ، ان فاتتنى ريحه لم يفتنى ريحه ) اس قول میں ’عطر‘ کا لفظ بطور تمثیل ہے۔ اس میں دراصل ایک اصولی زندگی کو بندلیہ مثال بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو وہ کام کرنا چاہئے کہ اگر خارجی اعتبار سے کوئی بڑا فائدہ حاصل نہ ہو تو ذاتی اعتبار سے پھر بھی اس کا فائدہ اسے مل جائے۔ مثلاً اگر آپ ایک ایسے فریق کے خلاف جنگ کا طریقہ اختیار کریں جو غیر متناسب حد تک آپ سے زیادہ طاقت ور ہے تو آپ اپنا سب کچھ کھودیں گے اور اگر آپ اس سے صلح کا طریقہ اختیار کریں تو کم از کم آپ کا موجودہ اثاثہ آپ کے پاس باقی رہے گا۔ آپ دوسرے کو نقصان نہ پہنچا کر بھی خود اپنا فائدہ محفوظ رکھیں گے۔ ۲۷ دسمبر ۱۹۹۱ ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ میں تحریر و تصنیف کے میدان میں کام کرنا چاہتا ہوں ، مجھے اس سلسلہ میں اپنا مشورہ دیجئے۔ میں نے کہا کہ میں اپنا مشورہ ہر مہینہ الرسالہ میں لکھ کر چھاپ رہا ہوں۔ اس کو آپ پڑھ لیں۔ انھوں نے اصرار کیا، مگر میں نے کوئی مشورہ نہیں بتایا۔ صرف یہ کہا کہ آپ الرسالہ کو پڑھیں۔ آخر میں انھوں نے اپنی نوٹ بک نکالی اور کہا کہ اس پر کچھ لکھ دیں۔ میں نے قلم لیا اور اس پر یہ الفاظ لکھ دئے: ہر ترقی کا ایک ہی راز ہے ، اور وہ محنت ہے۔ کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ نماز روزہ کی زندگی سے ہم کو بڑا سکون ملا ہے۔ میں نے دیکھا تو ان کے جسم خوب فر بہ تھے اور چہرہ پر سکون کے آثار نظر آرہے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page