ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
شراب پیئے اور چوری کرے ۔ آپ نے فرمایا کہ اے صدیق کی لڑکی ، یہ اس آدمی کے لئے ہے جو روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور صدقہ کرے اور ڈرے کہ اس کا عمل غیر مقبول نہ ہو جائے۔ روى الإمام أحمد والترمذي عن عائشة رضى الله عنها قالت۔ قلت يا رسول الله - قول الله تعالى : ان الذين هم من خشية ربهم مشفقون (المؤمنون ۵،هو الذي يزنى ويشرب الخمر ويسرق - قال ۔ لا يا ابنة الصديق ولكنه الرجل يصوم ويصلى ويتصدق ويخاف ان لا يقبل منه۔ حاتم الاصم سے ان کی نماز کے بارہ میں پوچھا گیا۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنی حد تک پورے اہتمام کے ساتھ نماز پڑھتا ہوں۔ مگر مجھے یہی ڈر رہتا ہے کہ میری نماز مقبول ہوئی یا نہ میری طرف پھینک دی گئی (شتم لا ادرى بعد امقبولة منى ام مردودة علیٰ) ۲۹ دسمبر ۱۹۹۱ کچھ کشمیری نوجوانوں سے گفت گو ہوئی۔ وہ پر جوش طور پر اس کے حامی تھے کہ کشمیر کو آزاد ہونا چاہئے یا پھر اس کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہئے۔ میں نے کہا کہ زندگی کے اکثر معاملہ میں، اور اسی طرح کشمیر کے معاملہ میں، اصل چیز وہ نہیں ہے کہ کیا ہونا چاہئے۔ اصل چیز یہ ہے کہ کیا ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ دنیا ' آئیڈیل ' کے انتخاب کا نام نہیں ہے بلکہ پریکٹیکل کے انتخاب کا نام ہے۔ آپ حضرات کی غلطی یہ ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے لئے ہندوستانی کشمیر اور آزاد کشمیر میں چوائس ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں۔ عملی حالت کے اعتبار سے آپ کے لئے جو چوائس ہے وہ ہندوستانی کشمیر اور برباد کشمیر میں ہے۔ میرا اور آپ کا فرق حقیقہ یہ نہیں ہے کہ میں ہندوستانی کشمیر کا حامی ہوں اور آپ آزاد کشمیر کے حامی ہیں۔ میرے اور آپ کے درمیان حقیقی فرق یہ ہے کہ میں ہندوستانی کشمیر کا چوائس قبول کرنا چاہتا ہوں اور آپ برباد کشمیر کا چوائس قبول کئے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader