Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

میں آگیا جو آخر کار ایک سپر پاور بن گیا۔ دوسری عالمی جنگ میں ہٹلر کی زیر قیادت نازی پارٹی نے روس پر حملہ کیا مگر اس کو کامیابی نہیں ہوئی ۔ اس کے بعد امریکہ اس کا دشمن بن گیا۔ ۱۹۴۷ میں دونوں کے درمیان کولڈ وار (سرد جنگ) کا آغاز ہو گیا۔ اس میں جان و مال کی بے شمار بربادی ہوئی۔ مگر امریکہ سوویت یونین کو ختم نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ جون ۱۹۹۰ میں کولڈ وار کے خاتمہ کا اعلان کر دیا گیا۔ خارجی خطرہ سوویت یونین کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو اتھا۔ مگر اندرونی مسائل نے سوویت یونین کو ہلا دیا۔ فروری ۱۹۸۹ میں روسی فوجوں کو افغانستان چھوڑ دینا پڑا۔ دسمبر ۱۹۸۹ میں مشرقی یورپ آزاد ہو گیا اور برلن وال (دیوار برلن) گرا دی گئی۔ دسمبر ۱۹۹۱ میں روسی وفاق کی گیارہ ریاستیں اس سے الگ ہو گئیں۔ ۱۹۹۱ کا خاتمہ سوویت یونین کا بھی خاتمہ بن گیا۔ انتظار خود ایک اعلیٰ تدبیر ہے۔ جو گروہ ناحق پر کھڑا ہو اس کے خلاف کسی کارروائی کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ انتظار کر سکیں تو ایک نہ ایک دن اس کی عمارت اپنے آپ ڈھ پڑے گی ۔ ۴ جنوری ۱۹۹۲ موجودہ زمانہ میں اختلاف کو ایک بھیانک چیز سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ دور اول میں اختلاف بالکل ایک عام بات تھی۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ تکاتر امام بخاری کے نزدیک مدنی ہے۔ جب کہ تمام مفسرین اس کو مکی قرار دیتے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار اختلافات ہیں۔ مگر دور اول میں اس قسم کے اختلاف کو برا نہیں مانا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں اختلاف کا نام آتے ہی لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔ یہ زوال کی علامت ہے۔ ۷ جنوری ۱۹۹۲ نانی پالکھی والا (Nani A. Palkhivala) ہندوستان کا مشہور قانون داں ہے۔ اجودھیا کے مسئلہ کے بارہ میں ان کا ایک مضمون ٹائمز آف انڈیا (۷ جنوری ۱۹۹۲) میں چھپا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ مقدمہ بازی (litigation) اس مسئلہ کا حل نہیں ۔ بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے مسئلہ پر پچھلے چالیس سال سے مقدمہ چل رہا ہے۔ مگر اب تک اس کا کوئی حل نہیں نکلا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page