Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

مقدمہ پر مقدمہ عدالت میں ڈھالا جاتا رہے گا اور یہ سلسلہ ایک صدی تک جاری رہے گا: old and new legal proceedings will go on for at least a century. یہ نہایت درست ہے۔ عدالت کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ مسلم قسم کے مسلمان لیڈروں کا مطالبہ ہے کہ دوسرا کانچ مقرر کر کے اس کا فیصلہ حاصل کیا جائے۔ مگر کسی بھی جج کا فیصلہ بارے ہوئے فرشتے کو اس سے نہیں روکتا کہ وہ اوپر کی عدالت میں مرافعہ کرے یا نئی شق نکال کر از سر نو مقدمہ کی کارروائی شروع کر دے۔ ۸ جنوری ۱۹۹۲ء ابن کثیر نے ۳۳۱ھ کے حالات کے ذیل میں لکھا ہے کہ اس سال شاہ روم کا خط خلیفہ کے پاس آیا کہ آپ کے پاس حضرت مسیح کا جومندیل ہے اس کو آپ ہمیں واپس کر دیں تو ہم تمام مسلم قیدیوں کو چھوڑ دیں گے جو ہمارے قبضہ میں ہیں۔ یہ مندیں وہ تھا جس کے متعلق مسیحیوں کا عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح نے اس سے اپنا چہرہ پو چھپا ہے ۔ خلیفہ نے علماء اسلام کو جمع کر کے مشورہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم مسیحیوں سے زیادہ عیسٰی کے حق دار ہیں۔ اور اس مندیں کو واپس کرنے میں مسلمانوں کی ذلت ہے اور دین میں کمزوری کی بات ہے ونحن أحق بعيسى منهم وفي بعثه إليهم غضاضة على المسلمين ووهن في الدين، البداية والنھاية ۳۶/۱۱ ان علماء نے مسلمانوں کی جان کے مقابلہ میں وقار کے مسئلہ کو زیادہ اہم قرار دیا۔ یہ بڑا شبہ غلط تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ علما اکایہ مزاج آج بھی مزید شدت کے ساتھ باقی ہے۔ ۹ جنوری ۱۹۹۲ء شاہ ولی اللہ صاحب پھلت میں پیدا ہوئے جو مظفر نگر کا ایک قصبہ ہے۔ بعد کو وہ دہلی منتقل ہو گئے ۔ ایک صاحب پھلت سے ملاقات کے لئے آئے ۔ ان سے میں نے پوچھا کہ پھلت میں شاہ ولی اللہ صاحب کی کوئی یادگار ہے۔ انھوں نے کہا کہ اور کوئی چیز تو نہیں۔ البتہ ایک موئے مبارک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں حضرت شاہ صاحب کے پاس آئے اور ان کو اپنا ایک بال دیا۔ شاہ صاحب نیند سے اٹھے تو وہ بال ان کے ہاتھ میں موجود تھا۔ یہ مقدس بال اب بھی پھلت میں رکھا ہوا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page