ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر شاہ صاحب کو عطیہ دینا چاہتے تھے تو بال سے زیادہ بڑا عطیہ یہ تھا کہ آپ ان کو ملت مسلمہ کے بارے میں رہنمائی دیتے۔ شاہ صاحب آخر عمر تک ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ مربٹوں کو سمجھتے رہے۔ حالانکہ یہ بہت سطحی بات تھی۔ ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ انگریزوں کی اور مغربی تہذیب کی یلغار تھی۔ اس یلغار کا آغاز شاہ صاحب کے زمانہ میں ہو چکا تھا اور آئندہ بہت زیادہ بڑھنے والا تھا۔ مگر شاہ صاحب کو اس کا مطلق کوئی شعور نہ ہوسکا۔ ۱۰ جنوری ۱۹۹۲ امریکہ کا سابق صدر لنڈن جانسن علم کو بہت اہمیت دیتا تھا۔ ایک بار اس نے اپنی تقریر میں کہا کہ امریکہ کے بارہ میں ہماری امیدوں کی بنیاد علم پر ہے : Learning is the basic to our hopes for America. امریکہ میں مہاجرت کا جو قانون تھا اس میں سفید فام لوگوں کے لئے آسان ضابطے تھے۔ مگر سیاہ فام کے لئے امریکہ میں داخلہ پر سخت ضابطے مقرر کئے گئے تھے۔ اس کی وجہ سے امریکہ سیاہ فام ماہرین کی خدمات بہت کم حاصل کر پاتا تھا۔ جانسن نے 1965 میں اس قانون میں ترمیم کرکے سب کے لئے یکساں طور پر امریکہ کے دروازے کھول دئے۔ اس نے کہا کہ ہم کو ان کی مہارت کی ضرورت ہے نہ کہ ان کے چمڑے کی: We need their skills and not their skins ۱۱ جنوری ۱۹۹۲ میں نے عشاء کی نماز ابوالفضل انکلیو (اوکھلا) کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد سنتیں پڑھ رہا تھا کہ ایک احساس دل پر گزرا۔ مجھ کو یاد آیا کہ میری پوری زندگی "مکاره" میں گزر گئی۔ پھر وہ حدیث یاد آئی کہ حُبِّبَتِ الْجَنَّةُ بالمكاره۔ میں نے کہا کہ خدایا ، تو ان مکاره کو میرے لئے جنت کے راستہ میں پیش آنے والے مکاره بنا دے۔ پروفیسر جے جے پوری امریکہ میں رہتے ہیں۔ آج وہ مسٹر جوگن دُر سنگھ ایم اے کے ساتھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader